پاکستان نے انڈیا سے زندگی بچانے والی ادویات کی درآمد پر پابندی ختم کردی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کو پاکستان نے انڈیا سے زندگی بچانے والی ادویات کی درآمدات پر عائد پاپندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد وزارت تجارت نے ایکسپورٹ امپورٹ آرڈر 2016 میں ترمیم کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے، جس کے تحت پاکستان اب انڈیا سے زندگی بچانے والی ادویات درآمد بھی کر سکے گا اور انڈیا کو برآمد بھی کر سکے گا۔
وزارت تجارت کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے انسانی بنیادوں پر انڈیا سے زندگی بچانے والی ادویات کی تجارت کی اجازت دی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے گذشتہ ماہ انڈیا کی طرف سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے بعد دو طرفہ تجارت معطل کردی تھی۔
جن ادویات سے پاپندی ختم کی گئی ہے وہ دل کے امراض، ذیابیطس، بلڈ پریشر، ٹی بی اور کینسر جیسی بیماریوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جبکہ ٹی بی کی ادویات میں استعمال ہونے والا کیمیکل 'ایتھمبیوٹول' کا انڈیا ہی واحد ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہMinistry of Commerce Pakistan
پاکستانی دواسازوں کے مطالبات
یاد رہے کہ پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کے مطالبات اور ادویات کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے اس بات کا تعین کر کے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کیا انڈیا سے آنے والے کیمیکلز کو پاکستان میں آنے کی اجازت دے دی جائے یا پھر انڈیا کو چھوڑ کر دیگر ممالک سے ادویات کا خام مال منگوایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف ایسوسی ایشن کا مطالبہ تھا کہ اگر حکومت انڈیا سے ادویات کا خام مال درآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو چین سے درآمد ہونے والے خام مال پر سبسڈی دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی سامنے آیا تھا کہ حکومت چین اور دیگر ممالک کے ساتھ درآمد کے طریقہ کار اور کاغذی کارروائی کو فارماسوٹیکل انڈسٹری کے لیے آسان بنائے۔
ادویات کے لیے انڈیا سے کتنا خام مال آتا ہے؟
پاکستانی فارماسوٹیکل انڈسٹری اپنا خام مال زیادہ تر انڈیا یا پھر چین سے درآمد کرتی ہے۔
پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین امجد علی جاوا کا کچھ دن پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'یہ بات سچ ہے کہ پاکستان میں بنائی جانے والی ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال کا تقریباً 50 فیصد حصہ انڈیا سے درآمد کیا جاتا ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 820 ایسے کیمیکلز ہیں جو پاکستان کی درآمدات کا حصہ ہیں کیونکہ وہ کیمیکل پاکستان میں تیار نہیں کیے جاتے۔ کم وبیش 62 سے زیادہ ایسے کیمیکلز ہیں جس کے لیے پاکستان انڈیا پر زیادہ انحصار کرتا ہے جن میں سے تقریباً 23 کیمیکلز ایسے ہیں جو زندگی بچانے والی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں۔
کم و بیش 65 کیمیکلز ایسے بھی ہیں جن کے لیے پاکستان انڈیا پر کم انحصار کرتا ہے۔
امجد علی جاوا کے مطابق 'مارکیٹ میں ادویات کا نہ ملنا اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ تجارت کی بندش کے علاوہ مریضوں کی جانب سے چند مشہور اور مخصوص برینڈز کی زیادہ مانگ کے باعث بھی ہوتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیصلے کا پس منظر
انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان نے انڈیا سے تمام تجارتی تعلقات منقطع کر دیے جس کے بعد انڈیا سے آنے والے اور مختلف ادویات میں استعمال کیے جانے والے خام مال اور کیمیکلز کو بھی پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
اس پابندی کے باعث پاکستان میں فارماسوٹیکل انڈسٹری کے مطابق زندگی بچانے والی بیشتر ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ میں ان کی کمی کا خدشہ بڑھنے لگا تھا۔
پاکستان میں ادویات کی قلت کے خدشے کے پیش نظر گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں فریقین نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور مسئلے کا جلد از جلد حل نکالنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا تھا۔
وزارت صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت نے یہ مشکل فیصلہ انسانی بنیادوں پر کیا ہے۔ ان کا کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تفصیل سے بحث ہوئی اور اس کے بعد یہ رائے بنی کہ زندگی بچانے والی ایسی ادویات پر پاپندی معطل کردی جائے۔ اب پاکستان یہ ادویات انڈیا سے درآمد بھی کرے گا اور برآمد پر بھی کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہو گی۔








