ایل او سی پر کشیدگی پاکستان اور انڈیا میں اہم اجلاس

قومی سلامتی

،تصویر کا ذریعہwww.pmo.gov.pk

انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی ایل او سی پر کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے انڈین فوج پر وادی نیلم میں حملے میں کلسٹر بم استعمال کرنے کے الزامات کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے قومی سلامتی کا اجلاس اتوار کو طلب کر لیا ہے۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے ایک ٹویٹ میں اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے طلب کردہ قومی سلامتی کے اجلاس میں وادی نیلم پر انڈین فورسز کی جانب سے حملے میں مبینہ طور پر کلسٹر بم استعمال کرنے سمیت قومی سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے بھی اتوار کو ملاقات کی اور ایل او سی پر مسلسل بگڑتی صورتحال کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

جبکہ انڈین داراحکومت دہلی میں بھی انڈین وزیر داخلہ،سیکرٹری داخلہ اور مشیر قومی سلامتی کی بیٹھک بلائی گئی ہے۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پیر کے روز پارلیمنٹ اجلاس سے قبل صبح 9:30 بجے کابینہ کا اجلاس اپنی رہائش گاہ پر طلب کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے سنیچر کو انڈین فوج کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کلسٹر بم استعمال کرنے کے الزامات لگائے تھے۔

آصف غفور

،تصویر کا ذریعہISPR

واضح رہے کہ انڈین فوج کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ گذشتہ ہفتے کے دوران لائن آف کنٹرول کے علاقے میں پاکستان کی جانب سے دراندازی کی کوششوں میں تیزی آئی ہے اوران کوششوں میں مبینہ طور پر بارڈر ایکشن فورس بھی شامل تھی۔

جس پر پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان پر لائن آف کنٹرول کے پاس اس کے زیرِ انتظام علاقے میں کارروائی کرنے کے الزامات پروپیگینڈا کے سوا کچھ نہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے سنیچر کی شب ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان پر لائن آف کنٹرول کے پار کارروائی اور لاشیں قبضے میں لینے کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ڈراموں سے انڈیا دنیا کی توجہ اپنے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انڈین فوج کی جانب سے کیے جانے والے مظالم میں اضافے سے ہٹانا چاہتا ہے۔

آضف غفور

،تصویر کا ذریعہTWITTER

انڈین فوج کے مطابق گذشتہ 36 گھنٹوں کے دوران پاکستان کی جانب سے وادی کا امن خراب کرنے اور امرناتھ یاترا کو نشانہ بنانے کے لیے کئی کوششیں کی گئیں۔ انڈین فورس نے ان کوششوں کا پیشہ ورانہ انداز میں مناسب جواب دیا اور پاکستانی فوج اور دہشت گردوں کی سازباز کو ناکام بنایا۔

انڈین فوج نے الزام لگایا کہ کیرن سیکٹر میں ایک فارورڈ پوسٹ پر بارڈر ایکشن فورس نے حملے کی کوشش کی جسے ناکام بنا کر پانچ سے سات حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا۔

انڈین میڈیا میں فوج کے حوالے سے کچھ ایسی تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں جن میں ان مبینہ حملہ آوروں کی لاشوں کو دکھایا گیا ہے۔

انڈیا کی جانب سے پاکستان پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اس نے دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بجائے انڈین فوج کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال کے بارے میں مذموم مہم شروع کر دی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان پر لائن آف کنٹرول کے پار بارڈر ایکشن ٹیم کے استعمال کا الزام لگایا گیا ہو۔ مئی 2017 میں بھی انڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فوج کی بارڈر ایکشن ٹیم نے اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں گشت کرنے والی فوجی پارٹی پر حملہ کر کے دو فوجیوں کو ہلاک اور ان کی لاشیں مسخ کر دی تھیں تاہم پاکستانی فوج نے ان دعووں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ایل او سی کے پار کوئی کارروائی نہیں کی۔

عسکری حکام نے بی بی سی اردو کو یہ بھی بتایا تھا کہ پاکستانی فوج میں کسی بارڈر ایکشن ٹیم کا کوئی وجود نہیں ہے۔

ادھر پاکستانی حکومت نے بھی انڈیا پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس کی فوج نے حالیہ چند ہفتوں میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں بھی کی ہیں اور انڈین فائرنگ سے 19 جولائی سے تین اگست کے درمیان پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھ شہری ہلاک اور 48 زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے سنیچر کی شب جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین فوج نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں شہریوں پر گولہ باری میں کلسٹربموں کا استعمال بھی کیا جو کہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تیزی سے خراب ہوتی صورت حال پربھی شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انڈین حکام کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں 38 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی سے وہاں کے عوام کی پریشانی اور خوف میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے مزید فوجیوں کی تعیناتی کے لیے خود ساختہ 'خفیہ اطلاعات' اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہشت گردی کی فوری کارروائی کے خطرے جیسی جو وجوہات تراشی جا رہی ہیں، وہ انھیں مسترد کرتا ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ اس طرح کی 'دھوکہ بازی' انڈیا کا جانا پہچانا طریقہ ہے۔

دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق وادی میں آنے والے سیاحوں، یاتریوں اور طلبا کو فوری طور پر وادی چھوڑنے کا حکم دیے جانے سے بھی خدشات بڑھے ہیں اور یہ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ انڈیا ممکنہ طور پر اپنے زیرِ انتظام کشمیر کا آبادیاتی ڈھانچہ بدلنے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی اور اب بھی کسی بھی ایسے قدم کا مخالف ہے جو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کا آبادیاتی ڈھانچہ یا جموں اور کشمیر کی عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت تبدیل کرے کیونکہ اس سے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔