آئ ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کے خلاف بیان پر حاصل بزنجو کو عدالتی نوٹس، ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور کی تنقید

جمعرات کے روز سینیٹ چیئرمین کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد چار ووٹوں سے ناکام ہونے کے بعد یوں لگا کہ اپوزیشن کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کے 'اپنے' ہی ان کا ساتھ ایسے چھوڑ دیں گے۔

جہاں اپوزیشن کی جانب سے اسے 'فاؤل پلے' قرار دیا جا رہا ہے تو وہیں حکومت کی جانب سے ان 14 سینیٹرز کو 'ان سنگ ہیرو' کہا گیا جنھوں نے اپوزیشن کی قرارداد کے خلاف ووٹ ڈالا۔

سب سے سخت ردِعمل سینیٹر میر حاصل بزنجو کا تھا جو کہ خود بھی سینیٹ چیئرمین کے لیے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار تھے۔

جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ خفیہ رائے شماری کے دوران یہ 14 ارکان کون تھے جنھوں نے آج آپ کا ساتھ نہیں دیا، تو انھوں نے اطمینان سے کہا 'یہ سب جنرل فیض کے لوگ ہیں، جانتے ہیں آپ جنرل فیض کو؟ آئی ایس آئی کے چیف ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

ان کے اس بیان پر پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے حاصل بزنجو کو آٹھ اگست کو طلب بھی کر لیا ہے۔

حاصل بزنجو کو یہ نوٹس گوجرانوالہ کے ایڈیشنل سیشن جج نے ایک مقامی وکیل کی درخواست پر جاری کیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی غداری کے ذمرے میں آتی ہے اس لیے میر حاصل بزنجو کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔

عدالت نے اس سے متعلق گوجرانوالہ پولیس کے سربراہ سے رپورٹ طلب کی ہے جبکہ حاصل بزنجو کو طلبی کے لیے جاری کیا گیا نوٹس سینیٹ سیکرٹریٹ کو بھجوا دیا ہے۔

میر حاصل بزنجو متحدہ اپوزیشن کی طرف سے سینیٹ کے چیئرمین کے لیے متفقہ امیدوار تھے۔

حاصل بزنجو کے اس بیان نے پاکستان میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور ایک مرتبہ پھر سے پاکستانی فوج کے مرکزی انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کے سیاسی معاملات میں مبینہ کردار کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

حاصل بزنجو کے بیان پر رات گئے فوج کی جانب سے ردِ عمل سامنے آیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ میں لکھا گیا کہ 'پریمیئر' قومی ادارے کے سربراہ پر الزامات بے بنیاد ہیں اور 'معمولی سیاسی فوائد' کی خاطر پورے جمہوری عمل کو بدنام کرنا جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں ہے

اسی معاملے پر دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفیٰ نے تو یہاں تک کہا کہ سینیٹر میر حاصل بزنجو کو عدالت لے جایا جائے اور ان سے ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف اپنے الزامات ثابت کرنے کے لیے کہا جائے اور ناکامی پر انھیں 'مثالی سزا' دی جائے۔

جواباً سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہاں ایسا ضرور کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے فیض آباد دھرنا کیس، اصغر خان کیس، اور لاپتہ افراد کے کیس میں آئی ایس آئی کے کردار پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کی یاد تازہ ہو جائے گی۔‘

سابق رکنِ پارلیمان بشریٰ گوہر نے میجر جنرل آصف غفور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کام ’ایک باوقار سیاسی رہنما اور رکنِ پارلیمان کو جمہوریت پر لیکچر دینا نہیں۔’

انھوں نے مزید یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ سویلین معاملات پر تبصرے کرنا چھوڑ دیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی بشریٰ گوہر اور میجر جنرل غفور ٹوئٹر پر ایک دوسرے سے براہِ راست الجھ چکے ہیں۔

اسی دوران کچھ لوگوں نے میجر جنرل غفور کی جانب سے آئی ایس آئی کو 'پریمیئر' یا اعلیٰ ترین ادارہ کہنے پر بھی تنقید کی۔

صحافی ماروی سرمد کا کہنا تھا کہ لفظ 'پریمیئر' تو وزیرِ اعظم یا حکومت کے سربراہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صحافی احمد نورانی نے ماروی سرمد سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد نے بھی یہی قرار دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ لفظ ’پریمیئر’ آئی ایس آئی کے لیے نہیں بلکہ صرف وزیرِ اعظم کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

جنرل فیض حمید فیض آباد والے

پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے سرسری واقفیت رکھنے والوں کے لیے بھی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کوئی نیا نام نہیں ہیں۔

جب نومبر 2017 میں مذہبی جماعتوں نے انتخابی حلف نامے میں ترمیم کو ختمِ نبوت کے عقیدے پر حملہ قرار دیتے ہوئے راولپنڈی اور اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر تین ہفتے طویل دھرنا دیا تھا، تو یہ جنرل فیض ہی تھے جن کی 'وساطت' سے حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ فیض آباد دھرنے میں آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر میجر جنرل فیض حمید نے کیسے معاہدہ کر لیا؟