آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرمی کو ’عالمی دہشت گرد‘ تنظیم قرار دے دیا
امریکہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق 'بی ایل اے ایک مسلح علیحدگی پسند گروہ ہے جو پاکستان میں واقع بلوچ اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور عام لوگوں کو نشانہ بناتا ہے۔'
محکمہ خارجہ کے بیان میں بی ایل اے کی ’دہشتگردانہ‘ کارروائیوں کے حوالے بھی دیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ تنظیم اگست 2018 میں بلوچستان میں چینی انجینئیرز پر حملے، نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ اور مئی 2019 میں گوادر میں ہوٹل (پرل کانٹیننٹل) پر حملوں کی ذمہ دار ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد امریکہ میں موجود اس تنظیم کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں منجمد کر دی گئی ہے اور خاص طور پر امریکی عوام کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس تنظیم سے کسی طرح کا لین دین نہ کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پابندی کا مقصد ایسی تنظیموں اور افراد کو الگ تھلگ کرنا اور انھیں امریکہ کے معاشی نظام تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
پاکستان کا ردعمل
پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بی ایل اے نے ماضی قریب میں پاکستان میں 'کافی دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں۔'
وزات خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بی ایل اے کے کام کرنے کے مواقع کم ہوئے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 'یہ اہم ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے، اس کے منتظم، مالی مدد کرنے والے، بیرونی سپانسرز اور ایسے اقدامات کی ستائش کرنے والوں کو جواب دہ کیا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
'پاکستانی وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستان میں کالعدم قرار دی گئی 70 جماعتوں میں سے 15 علیحدگی پسند جماعتیں ہیں۔حکام کے مطابق یہ تنظیمیں ریاستِ پاکستان سے علیحدگی کے لیے مسلح جدوجہد میں ملوث رہی ہیں یا ہیں۔‘
ان میں سے 13 علیحدگی پسند جماعتوں کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔ صوبہ بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی علیحدگی پسندوں کی پہلی جماعت تھی جسے سنہ 2006 میں پاکستان نے کالعدم قرار دیا تھا۔اس کے بعد پانچ علیحدگی پسند جماعتوں کو سنہ 2010، پانچ کو سنہ 2012، جبکہ دو کو سنہ 2013 میں کالعدم قرار دیا گیا۔
بی ایل اے کیا ہے؟
یاد رہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی بلوچستان کی پہلی منظم عسکریت پسند تنظیم ہے جس کا نام شدت پسندی کی بڑی کارروئیوں میں آتا رہا ہے۔ان کارروائیوں میں دالبندین میں چینی انجینیئرز کی بس پر خودکش حملہ، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ اور کچھ عرصہ قبل گوادر میں پرل کانٹینیٹل ہوٹل پر حملہ شامل ہے۔
چینی قونصل خانے پر حملے کے بعد افغانستان میں بی ایل اے کے کمانڈر اسلم عرف اچھو ایک مشتبہ خودکش حملے میں ساتھیوں کے ہمراہ مارے گئے تھے، جس کے بعد بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھالی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں شورش کی تاریخ بہت پرانی ہے تاہم ستر کی دہائی کے اوائل میں باقاعدہ تنظیم سازی کی گئی اور بلوچستان لبریشن آرمی پہلی باقاعدہ علیحدگی پسند تنظیم بنی۔
شہزادہ ذوالفقار کے مطابق بی ایل اے بلوچستان کی واحد علیحدگی پسند تنظیم ہے جس کی موجودگی پورے بلوچستان میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے یہ اقدام اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی درمیان جاری سرد مہری اب ختم ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حال ہی میں پاکستان نے امریکہ کی درخواست پر افغانستان میں طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ امریکہ ہی کی درخواست پر پاکستان اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ طالبان اور افغان حکومت میں براہ راست بات چیت کا آغاز کروایا جائے۔
’پاکستان امریکہ کی مدد کر رہا ہے اور بدلے میں پاکستان کی مدد کی جا رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک عام رائے یہ ہے کہ امریکہ ایسی تنظیموں کی کسی نہ کسی سطح پر سپورٹ کر رہا ہوتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے اس اقدام سے شاید بی ایل اے کی بلوچستان میں جاری کارروائیوں پر فرق نہ پڑے مگر علامتی طور پر اس کی کافی اہمیت ہو گی۔