گوادر: ہوٹل میں کلیئرنس آپریشن مکمل، تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں فائیو اسٹار ہوٹل 'پرل کانٹیننٹل' پر بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملے میں تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ہوٹل میں جاری کلیئرنس آپریشن کو مکمل کر لیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والوں میں نیوی کا ایک اہلکار اور چار سیکیورٹی گارڈز شامل ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق حملہ آوروں نے ہوٹل میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ مرکزی گیٹ پر موجود سیکیورٹی گارڈ نے انھیں ہوٹل کے مرکزی ہال میں جانے سے روکا جس کے بعد حملہ آور اوپر کی منزلوں پر جانے والی سیڑھیوں کی جانب چلے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیڑھیوں پر موجود حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں سیکورٹی گارڈ ظہور ہلاک ہو گئے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والوں میں فوج کے دو کیپٹن، دو نیوی اہلکار اور ہوٹل کے دو ملازمین شامل ہیں جبکہ حملہ آوروں کی لاشیں شناخت کے لیے تحویل میں لے لی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہوٹل پر حملہ مقامی وقت کے مطابق سنیچر کی شام چار بجکر 40 منٹ پر کیا گیا۔

پاکستان فوج کے ترجمان ادارے نے ذرائع ابلاغ کی طرف سے حملے کی ’ذمہ دارانہ‘ کوریج پر شکریہ ادا کیا۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے گودار میں ہوٹل پر حملے کو بلوچستان میں ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ چین پاکستان اکنامک راہدری میں ایک ہیرے کی حثیت ہے۔

ہاشو گروپ چیف ایگزیکٹو مرتضی ہاشوانی نے پرل کانٹینٹل ہوٹل پر حملے پر دکھ اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے عملے کو تمام ممکنہ مدد فراہم کر رہے ہیں۔

ہاشو گروپ کے چیف ایگزیکٹو نے فوج، نیوی اور پولیس کا حملے پر فوری ردعمل ظاہر کرنے شکریہ ادا کیا ۔ انھوں نے کہ ہوٹل اپنے سٹاف اور مہمانوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ اس کے ہمیشہ چوکنے رہے ہیں۔

حملے کی ذمہ داری

بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے گوادر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مجید بریگیڈ کے فریڈم فائٹرز نے پی سی ہوٹل میں گھس کر حملہ کیا جہاں چینی اور دیگر سرمایہ کاروں نے رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔‘

یاد رہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی بلوچستان کی پہلی منظم عسکریت پسند تنظیم ہے جس نے اس سے قبل دالبندین میں چینی انجینیئرز کی بس پر خودکش حملہ، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ اور حالیہ دنوں میں یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔

مجید بریگیڈ مجید بلوچ کے نام سے بنائی گئی ہے جس نے 1970 کی دہائی میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم سے حملے کی کوشش کی تھی۔

چینی قونصل خانے پر حملے کے بعد افغانستان میں بی ایل اے کے کمانڈر اسلم عرف اچھو ایک مشتبہ خودکش حملے میں ساتھیوں کے ہمراہ مارے گئے تھے، جس کے بعد بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھالی ہے۔

گوادر کی اہمیت

گوادر پاکستان چین اقتصادی راہداری کا اہم مرکز ہے جہاں بڑی تعداد میں چینی انجنیئرز اور کارکن موجود ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار سکندر کرمانی کے مطابق گوادر ایک ایسا شہر ہے جہاں فوج کی بھاری تعداد موجود رہتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ سنہ 2017 میں جب انھوں نے بین الاقوامی صحافیوں کے ساتھ گوادر کا دورہ کیا تو ان کا قافلہ فوجیوں کی حفاظت میں سفر کرتا تھا اور انھیں اسی ہوٹل میں ٹھہرایا گیا جسے نشانہ بنایا گیا ہے۔

سکندر کا ماننا ہے کہ اس حملے کو پریشان کن طور پر سکیورٹی کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلاموقع نہیں ہے جب چینی مفادات کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ گذشتہ برس بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا۔

چینی سفارت خانے کی جانب سے ٹوئٹر پر پیغام میں اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ ان کی ہمدردیاں ہلاک ہونے والے ایک سکیورٹی اہلکار اور زخمی ہونے والے دو سکیورٹی اہلکاروں کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں کی طرح گوادر میں بھی بد امنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ بھی ضلع گوادر کی تحصیل اورماڑہ میں مسافر بسوں سے سکیورٹی فورسز کے 14 اہلکاروں کو اتار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

پی سی ہوٹل پر اس سے قبل بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا۔