خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کا احتجاج: ’مریض بےچارہ کیا کر سکتا ہے لڑ تو نہیں سکتا‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان چھ روز سے جاری تنازعہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو کئی قسم کے مشکلات کا سامنا ہے۔
پشاور کے دو بڑے تدریسی طبی مراکز خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ڈاکٹروں کی طرف سے ہڑتال کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس دوران صرف ایمر جنسی سروسز فراہم کی جارہی ہے جبکہ دیگر تمام سروسز معطل ہیں۔
خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ ہسپتال کے مرکزی گیٹ پر پہنچتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کوئی طبی مرکز نہیں بلکہ پولیس تھانہ یا کوئی فوجی مرکز ہو کیونکہ وہاں ہر طرف پولیس اہلکار چوکس دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

ہسپتال کی مرکزی او پی ڈی جہاں عام دنوں میں مریضوں کے رش کے باعث تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی وہاں بھی مریضوں کی جگہ پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ او پی ڈی کے احاطے میں قائم بڑے بڑے بینچوں پر پولیس اہلکار ٹیر گیس گن اور دیگر اسلحہ تھامے ہوئے آرام سے بیٹھے نظر آتے ہیں۔
وہاں موجود ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین دنوں سے یہاں ڈیوٹی دے رہے ہیں اور جب تک ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان تنازعہ ختم نہیں ہو جاتا انھیں یہاں تعینات رہنے کا حکم ملا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اعلی حکام کی طرف سے حکم ملا ہے کہ اگر ڈاکٹر ان پر حملہ کریں تو جوابی کارروائی کی جائے لیکن اگر ڈاکٹرز آپس میں لڑ پڑتے ہیں تو داخل اندازی کی ضرورت نہیں۔
خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا شمار صوبے کے بڑے طبی مراکز میں ہوتا ہے جہاں تقریباً 1200 سے لے کر 1500 مریضوں کے داخل ہونے کی گنجائش ہے۔ لیکن ہڑتال کے باعث ہسپتال کی زیادہ تر لابیز میں ہو کا عالم ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں کوئی ہسپتال ہی نہ ہو۔

او پی ڈی کے ساتھ کھڑے پارہ چنار سے آئے ہوئے ایک نوجوان اشفاق نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بھائی ذہنی امراض کے وارڈ میں گزشتہ ایک ہفتے سے داخل ہے لیکن جب سے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی طرف سے ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے اس کے بعد سے سینیئر ڈاکٹرز ڈیوٹی پر نہیں آ رہے جس سے اب تمام مریض اللہ کے رحم و کرم پر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں داخل ہونے والے بیشتر مریض غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو نجی ہپستالوں میں علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انھوں نے کہا ’مریض بے چارہ کیا کر سکتا ہے وہ تو ویسے بھی بیمار اور ہمدردی کا طلب گار ہوتا ہے وہ ڈاکٹر سے لڑ تو نہیں سکتا۔‘
ضلع دیربالا سے مریض کے ساتھ آئے ہوئے ایک اور نوجوان سیلمان شاہ نے بتایا کہ ہڑتال کے اعلان کے بعد ڈاکٹر وارڈز میں نہیں آرہے بلکہ صرف ہسپتال کا عملہ ہی تمام اختیارات سنبھالے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل ان کے مریض کا ایم آر آئی ٹیسٹ ہوا تھا لیکن ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں آ سکا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث اب ہسپتال میں مریض مر رہے ہیں اور الزام ڈاکٹروں پر لگ رہا ہے۔

سلیمان شاہ کے مطابق ’گذشتہ رات دو بچے چلڈرن وارڈ میں ہلاک ہوئے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کی موت کس وجہ سے ہوئی لیکن ظاہری سی بات ہے جب ڈاکٹر ڈیوٹی نہیں کریں گے تو الزام تو ان پر لگے گا۔`
چھ روز قبل صوبائی وزیر صحت کے محافظوں کی طرف سے ایک سینیئر ڈاکٹر پر تشدد کیا گیا جس کے بعد ڈاکٹروں کی تنظیموں نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری ہپستالوں میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتالی ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ وزیر صحت کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کو عہدے سے ہٹایا جائے اور محکمہ صحت میں ہونے والی بعض اصلاحات کو واپس لیا جائے۔
تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ڈاکٹروں کے مسائل سننے کے لیے انھیں باضابطہ طور پر مزاکرات کی دعوت دی ہے جو آج بروز منگل متوقع ہے۔











