لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لیے دھرنا جاری، گرفتار افراد رہا

شیعہ خاندانوں کا دھرنا

پاکستان کے شہر کراچی میں صدر مملکت عارف علوی کی نجی رہائش گاہ کے باہر لاپتہ ہونے والے شیعہ افراد کے اہلخانہ اور سماجی کارکنوں کا دھرنا جاری ہے جبکہ بدھ کی شب احتجاج میں شریک گرفتار کیے گیے 17 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

وائس فار مسنگ شیعہ پرسنز کے سربراہ راشد رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ شب جب یہ جوان دھرنے میں شرکت کے لیے پہنچے تھے تو پولیس نے لاٹھی چارج کر کے انھیں گرفتار کر لیا تھا اور جمعرات کی صبح انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل پولیس نے منگل کو بہادر آباد تھانے میں دھرنے کے شرکاء کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، جس میں مدعی اے ایس آئی تعویذ گل نے بیان دیا کہ صدر پاکستان عارف علوی کی رہائش گاہ محمد علی سوسائٹی بہادرآباد میں مسنگ پرسنز کمیٹی کے سربراہ راشد رضوی، صغیر جاوید، صفدر شاہ، حسن رضا و دیگر اشخاص کے اکسانے پر نامعلوم افراد نے، جن میں عورتیں بھی شامل تھیں جن کی تعداد ڈھائی سو سے تین سو کے درمیان ہے دھرنا دیا ہوا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ دھرنے میں کچھ اشخاص مسلح ہیں اور ڈنڈوں سے بھی لیس ہیں اور وہاں نعرہ بازی، ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، ٹریفک اور پیدل اشخاص کی آمد و رفت میں مزاحمت، حکومت و ملک اور فورسز کے خلاف نعروں اور امن و امان کے قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی تھی اور شرکاء اپنے بیانات سے ملک کو فساد کی طرف بھی دھکیل رہے تھے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مطابق پورے پاکستان سے 80 شیعہ نوجوان لاپتہ ہیں

مدعی کے مطابق اعلیٰ حکام نے دھرنا ختم کرنے اور اس سے باز رہنے کو کہا اور تھانے سے بھی ان کو نوٹس دیئے گئے لیکن انھوں نے وصول نہیں کیے، لہٰذا ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے سربراہ راشد رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھرنے کو گیارہ دن ہوگئے ہیں جس میں خواتین اور بچے بھی موجود ہیں جو اس گرمی میں روزے کے ساتھ ہیں، یہ پرامن دھرنا ہے جس میں ایک گملہ تک نہیں توڑا گیا۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مطابق پورے پاکستان سے 80 شیعہ نوجوان لاپتہ ہیں جن میں سے 41 کا تعلق کراچی سے ہے، جن کی بازیابی کے لیے گذشتہ تین سالوں سے تحریک جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے سربراہ راشد رضوی سڑکوں اور پریس کلب کے باہر متعدد بار احتجاج اور بھوک ہڑتال کرچکے ہیں، اس کے بعد انھوں نے ایک مارچ کیا تھا جس کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے بعد انہوں نے دو بار سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا گھیراؤ کیا اوران سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ انھوں نے سارے کیسز دیکھے اور کہا کہ ہمارے لوگ نہیں اٹھاتے‘۔

شیعہ خاندانوں کا دھرنا
،تصویر کا کیپشنوائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مطابق پورے پاکستان سے 80 شیعہ نوجوان لاپتہ ہیں

’ہم تمام حجتیں پوری کرچکے ہیں چونکہ پاکستان میں سے سب بڑا منصب صدر مملکت کا ہوتا ہے اس لیے ہم نے سوچا کہ ان کے گھر کے سامنے دھرنا دیا جائے، وہ دونوں انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان کو اپنے ساتھ بٹھائیں، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ لاپتہ افراد گناہ گار یا بے گناہ ہیں ہم چاہتے ہیں کہ انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ عدالتیں اس کا فیصلہ کریں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عدالتیں کمزور ہیں تو عدالتوں کو مضبوط کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

راشد رضوی نے بتایا کہ صدر عارف علوی کے حکم پر گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزیر علی زیدی اور دونوں انٹیلی جنس اداروں کے حکام کے ساتھ مذاکرات ہوئے، دونوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ لاپتہ لوگ کہاں ہیں ہم انہیں ڈھونڈیں گے اور ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا لیتے ہیں آپ دھرنا ختم کردیں۔

راشد رضوی کا کہنا تھا ’ہم نے انہیں کہا کہ آپ کمیٹی بنالیں وہ اپنا کام کرے لیکن دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوجاتے، جس کے بعد مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد گذشتہ دن سے پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے، ہماری کمیٹی کے رکن حسن رضا سہیل کو گرفتار کرلیا ہے اور شرکا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جس میں ملک دشمنی کی دفعات لگائی گئی ہیں حالانکہ ہم پر امن طریقے سے بیٹھے ہیں اور پاکستان کے جھنڈے لگا رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ دو روز قبل کاؤنٹر ٹیرر ازم محکمے کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں 5 شیعہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس میں لاپتہ صحافی مطلوب موسوی بھی شامل ہے جس کی جبری گمشدگی کی اطلاعات اہل خانہ نے تھانے پر دی تھی جب کہ ان کے خاندان سمیت صحافی تظیمیں اس کے خلاف احتجاج کر چکی ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں مشترکہ آپریشن کے ذریعے سید عمران، وقار رضا، عباس، سید مطلوب موسوی، اور سید متسم کو گرفتار کیا گیا ہے،وہ حیران تھے کہ ان مشتبہ ملزمان کے نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ ’پڑوسی ملک شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے لیے تربیت اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے لیکن وہ پڑوسی ملک کا نام نہیں لے سکتے یہ کام دفتر خارجہ کا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے بتایا ہے کہ 28 افراد ان کی ہٹ لسٹ میں تھے جن کی وہ ریکی کر رہے تھے۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے سربراہ راشد رضوی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ یہ لوگ لاپتہ تھے، کوئی دو ماہ سے تو کوئی چھ ماہ سے، جن میں سے بعض کی ایف آئی آرز اور عدالت میں آئینی درخواست بھی دائر ہیں مگر مذاکرات کی ناکامی کے بعد ان پر یہ الزامات عائد کیے گئے۔