راولپنڈی پولیس کو کال: بھتیجے نے پھوپھی کو شادی سے نکالنے کے لیے پولیس بلا لی

شادی
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں اکثر شادیوں پر رشتہ داروں میں تلخیاں ہو جاتی ہیں (فائل فوٹو)
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے کی باتیں تو آپ نے سنی ہی ہوں گی مگر بھتیجی کی شادی میں پھوپھی نہ ہو تو شادی کیسے ہو؟

اور اگر پھوپھی بن بلائے شادی میں آ جائیں تو بندہ کیا کرے؟

ایسا ہی واقعہ راولپنڈی میں پیش آیا جہاں ایک شادی سے ریسکیو 15 کو کال کر کے مدد کی اپیل کی گئی۔

کال کرنے والے نے ایک سے زیادہ بار کال کی اور کہا کہ ان کے ہاں ایک مسئلہ ہے جس میں انھیں پولیس کی مدد درکار ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

پولیس کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ وہ ریسکیو 15 کی کال پر فوری کارروائی کریں۔ تو اس معاملے میں پولیس اہلکار اے ایس آئی شعیب کو فوری طور پر ایک اہم تفتیش بیچ میں چھوڑ کر جانا پڑا۔

اے ایس آئی شعیب نے بتایا کہ 'میں ایک بہت ہی پیچیدہ کیس کی تفتیش میں مصروف تھا اور مجھے اس کی تفتیش بیچ میں چھوڑ کر فوری جانا پڑا۔'

یہ بھی پڑھیے

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے ایک ساتھی کو ساتھ لیا اور موقعے پر پہنچے تو ایک 20 سال کا لڑکا ملا جس نے بتایا کہ کال اس نے کی تھی اور یہ اس کی بہن کی شادی ہے۔

شادی میں بن بلائے پھوپھی کی شرکت پر اس نے پولیسں بلائی تھی تاکہ وہ انھیں محفل سے لے جائیں۔

پولیس اہلکار کہتے ہیں 'مجھے شدید کوفت ہوئی کہ میں اتنے اہم کیس کی تفتیش چھوڑ کر اس معاملے میں کیا کروں۔ مگر میں نے اپنے غصے کو چھوڑ کر اپنی وردی کی لاج رکھتے ہوئے انھیں انتہائی تحمل سے درخواست کی کہ اپنے والدین کو بلائیں۔'

اس کے بعد انھوں نے پوری کہانی سننے کے بعد یہ کہہ کر وہاں سے رخصت چاہی 'میں خواتین پولیس کی نفری لے کر آتا ہوں اور وہاں سے الٹے پاؤں واپس تھانے پہنچا۔'

جب ان سے پوچھا کہ وہ اس قسم کی کال کرنے والوں کو کیا کہیں گے تو انھوں نے سادگی سے کہا ’جناب ہم چور پکڑیں یا لوگوں کی پھوپھیاں اٹھائیں۔ مگر وردی پہنتے ہیں تو ہمارا تو کام ہی یہی ہے۔'

اے ایس پی آمنہ بیگ نے اس کال کے بارے میں ٹویٹ بھی کیا اور بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمیں روزانہ کی بنیاد پر 200 کے قریب کالیں ملتی ہیں۔ ہمارا کام ہر ایک (ریسکیو) 15 کی کال پر جواب دینا ہوتا ہے بے شک اس کی نوعیت کوئی بھی ہو۔ تو ہمارے لیے سب اہم ہیں کیونکہ ہمارا کام تحفظ ہے۔'