عراق: موصل میں کشتی ڈوبنے سے 80 افراد ہلاک

Aftermath of Mosul ferry sinking

،تصویر کا ذریعہReuters

عراق کے شہر موصل میں دریائے دجلہ میں ایک کشتی ڈوبنے سے تقریباً 80 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

موصل کے شعبہِ شہری دفاع کا کہنا ہے کہ کشتی کے زیادہ تر مسافر تیراکی نہیں جانتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس کشتی پر تققریباً 200 افراد سوار تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ نئے سال کی تقریبات کے سلسلے میں یہ کشتی ایک سیاحتی جزیرے کی جانب جا رہی تھی۔

وزیراعظم عدل عبدل مہدی نے اس واقعے کی تفتیش کا اعلان کیا ہے تاکہ ’ذمہ داران کا تعین‘ کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ شدید درد اور غم کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور انھوں نے بچ جانے والوں کے لیے تمام تر ریاستی وسائل بروکار لانے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم نے ملک میں تین روز کے سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی عراق کے حوالے سے خصوصی ایلچی جنین ہینس پلاسچارٹ نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکام نے دریا میں پانی کی ابھرتی ہوئی سطح کے بارے میں خبردار کیا تھا کیونکہ موصل ڈیم کے گیٹ کھول دیے گئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے کشتی چلانے والی کمپنی پر الزام لگایا کہ اس نے حکام کی تنبیہ کو نظر انداز کیا۔

سوشل میڈیا پر الٹی ہوئی اس کشتی کی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔ جائے وقوع پر طبی عملہ اور ریسکیو اہلکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم مقامی اخبار موصل آئی کے مطابق سیکیورٹی فورسز صحافیوں کو اس واقعے کی تفصیلات حاصل کرنے سے روک رہی ہیں اور کچھ کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

Aftermath of Mosul ferry sinking

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجائے وقوع پر طبی عملہ اور ریسکیو اہلکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
Aftermath of Mosul ferry sinking

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناب تک درجنوں افراد کو پانی سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔
Tourist island near Mosul

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکہا جا رہا ہے کہ نئے سال کی تقریبات کے سلسلے میں یہ کشتی ایک سیاحتی جزیرے کی جانب جا رہی تھی۔

اطلاعات کے مطابق یہ کشتی ام رابن جزیرے کی جانب روانہ تھی جو کہ موصل کے وسط سے تقریباً 4 کلومیٹر دور ایک سیاحتی مقام ہے۔ خطے بھر میں لوگ کردش نئے سال نوروز کے سلسلے میں تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔

2014 میں موصل دہشتگرد تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں تھا اور اس کا غیر اعلانیہ دارالحکومت بھی بن گیا تھا۔ نو ماہ کی طویل لڑائی کے بعد اسے جولائی 2017 میں آزاد کروایا گیا تھا۔