خواتین کا عالمی دن: پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے عورت مارچ اپنے اختتام کو پہنچ گئے

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے عورت مارچ کا اختتام ہو گیا ہے جہاں ہزاروں افراد نے پرجوش انداز میں شرکت کی اور معاشرے میں خواتین کے مسائل کو ختم کرنے مطالبہ کیا ہے۔
کراچی کی تاریخی عمارت فرئیر ہال ہر جمع ہونے والے مظاہرین کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد کے پریس کلبز پر شرکت کرنے والوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور اس کے علاوہ پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، فیصل آباد اور گجرانوالہ میں بھی عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھی سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں عہد کیا کہ ملک میں خواتین کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پشاور:
پشاور میں اس سلسلے میں بڑی تقریب پشاور پریس کلب میں منعقد ہوئی جہاں عورتوں نے عالمی دن کے مناسبت سے آزادی کے گیت گائے اور مختلف خواتین کارکنوں نےعورتوں کے جد وجہد کے سلسلے میں اپنی کہانیاں بیان کی۔ یہ تقریب ' فیمنسٹس فرائے ڈے' نامی عورتوں کے ایک گروپ کے زیراہتمام منعقد ہوئی۔

بعد میں خواتین کارکنوں نے پشاور پریس کلب سے پی ٹی ایل چوک تک ایک مختصر مارچ کا انعقاد بھی کیا جس میں عورتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب رشندہ ناز نے بھی شرکت کی۔ اس موقعے پر خواتین رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صوبے میں گھریلو تشدد کا بل فوری طورپر صوبائی اسمبلی سے پاس کرکے اسے قانون کا درجہ دیا جائے۔
انھوں نے حکومت اور سیاسی جماعتوں سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ خواتین کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
کراچی اور حیدر آباد:

کراچی میں مارچ کے آغاز میں تاخیر ہوئی کیونکہ جس مقام پر مارچ شروع ہونا تھا وہاں کے تھانے کے ایس ایچ او نے عورت مارچ کے شرکا کو کہا ہے کہ وہ اپنے مارچ کا راستہ تبدیل کر لیں کیونکہ فریئر ہال کے گرد و نواح میں سکییورٹی خدشات ہیں۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے کرامت حسین کے مطابق کراچی میں عورت مارچ کا روٹ پی ایس ایل کے لیے آئی ٹیموں کی سکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے تبدیل کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

صحافی شمائلہ خان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مارچ کے منتظمین سے مارچ کا راستہ تبدیل کرنے کی درخواست کی جس کے بعد مارچ کے شرکا فاطمہ جناح روڈ کے ذریعے کراچی کینٹ سٹیشن تک مارچ کر کے فریئر ہال واپس آگئے۔
کراچی کے مارچ میں شامل خواجہ سرا کارکن بندیا رانا کا کہنا تھا کہ خواتین اور خواجہ سراؤں کو ایک جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں ملازمتوں، مواقع اور تعلیم کے حوالے سے وہ سب میسر نہیں آتا جو مردوں کو ملتا ہے۔ مرد جو چاہے پہن کر کہیں بھی جا سکتا ہے جبکہ ہم جہاں جائیں لوگ ہمارے لباس پر تنقید کرتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
کراچی میں ہونے والے مارچ میں شرکت کے لیے آنے والے ایک فرد نے بتایا کہ وہ اس لیے آئے ہیں کیونکہ 'عورتیں ہماری مائیں بھی ہیں، بہنیں بھی ہیں، ساتھی بھی ہیں اور ہم جماعت بھی۔ جو ان کی جد و جہد ہے وہ ہماری بھی جد و جہد ہے۔ اگر عورت آزاد نہیں تو ہم کیسے آزاد ہو سکتے ہیں۔'

ادھر حیدر آباد میں خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں نے بھی عورت مارچ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور وہاں پریس کلب کے باہر موجود عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ آج کے مارچ میں شامل ہونے والی خواتین کا تعلق ورکنگ کلاس سے ہے اور انھیں بھی اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے۔
اسلام آباد:
جہاں ملک بھر میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تقریبات جاری تھیں، پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں نے حکومت کی طرف سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بنائے گئے اشتہار میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کا نام مبینہ طور پر نکالنے پر ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔
سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ویمن ڈے کے اشتہار سے ملک کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہنے والی بے نظیر بھٹو کا نام، شکل اور ذکر تک نکال دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ دنیا نے بے نظیر بھٹو کی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کے نام پر یونیورسٹیوں میں چئیر اور کئی ملکوں میں سڑکوں کے نام رکھے گئے ہیں۔ شیری رحمان کے احتجاج پر حکومتی بینچوں میں شامل خواتین سینیٹرز نے بھی ڈیسک بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کروائیں گے کہ کیسے بےنظیر بھٹو کا نام اور ان کی تصویر اشتہار سے ہٹائی گئی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بعد ازاں جب رہنما شیری رحمان اسلام آباد میں ہونے والے عورت مارچ میں پارٹی کا جھنڈا لے کر پہنچیں تو انھیں وہاں موجود شرکا سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا جن کا کہنا تھا کہ 'یہ مارچ مکمل طور پر غیر سیاسی ہے۔'
اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین میں شامل، راولپنڈی کے ابراہیم بشیر کا کہنا تھا کہ عورتوں کا مردوں پر انحصار ختم ہونا چاہیے۔
وہیں موجود اسلام آباد کی طوبیٰ صدیقی نے کہا کہ خواتین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کے کم مواقع ہیں۔ عورت مارچ میں شرکت کرنے والی اسلام آباد کی فوزیہ پروین نے کہا کہ انھیں پانچ سال لگے جس کے بعد انھیں انتہائی تکلیف دہ شادی سے چھٹکارہ ملا۔
لاہور:
لاہور میں بارش کے امکان کے پیش نظر عورت مارچ کے منتظمین نے تمام آنے والوں کو چھتریاں ساتھ لانے کا مشورہ دیا لیکن خراب موسم کے خدشے کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں نے مارچ میں شرکت کی۔

لاہور میں پریس کلب سے شروع ہونے والا مارچ چئیرنگ کراس تک گیا جہاں شرکت کرنے والوں نے اپنے ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر اٹھائے ہوئے تھے۔
معروف گلوکارہ میشا شفیع نے بھی وہاں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطان کے مالک علی ترین بھی لاہور میں ہونے والے عورت مارچ کا حصہ تھے اور انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر ننگیانہ سے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا یہ بہت ضروری ہے کہ ہر کوئی نکلے جب عورتوں کے حقوق کے بارے میں بات ہو رہی ہو۔
'یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم آگاہی پھیلائیں ان کے مسائل کے بارے میں جن کا ہماری خواتین کو ہمارے معاشرے میں، ہماری ثقافت میں، ہمارے ملک میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب تک ان کے مسائل کی نشاندہی اور آگاہی نہیں ہوگی اس وقت تک لوگ نہیں سمجھ سکیں گی کہ ان کی مشکلات کیا ہیں اور کئی لوگ تو یہ سمجھتے ہی نہیں ہے کہ لڑکیوں کے کچھ مسائل ہیں۔'

لاہور میں عورت مارچ کے موقع پر ان خواتین کی نمائندگی بھی کی گئی جو مختلف جرائم، بالخصوص گھریلو تشدد کے باعث جان کی بازی ہار گئیں۔ ان کی نمائندگی کی لیے خواتین کا ایک گروہ تابوت لے کر مارچ میں شامل تھا۔
واضح رہے کہ خواتین کا عالمی دن ہر سال 8 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن خواتین کے حقوق اجاگر کرنے کے حوالے سے مختص ہے۔
امریکہ میں سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے 1909 میں 28 فروری کو خواتین کا دن منایا گیا جس کے بعد 1910 میں خواتین کے حوالے سے ایک عالمی کانفرنس میں تجویز کیا گیا کہ یہ دن سالانہ طور پر منایا جانا چاہیے۔ اس کانفرنس میں 17 ممالک کی 100 خواتین نے اس خیال کو متفقہ طور پر منظور کیا۔

یہ پہلی مرتبہ 1911 میں آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزر لینڈ میں منایا گیا۔ اس حساب سے رواں برس 108 یوم خواتین منایا جا رہا ہے۔
1917 میں سویت روس میں خواتین کو ووٹ کا حق ملنے کے وجہ سے وہاں 8 مارچ کو قومی تعطیل ہونے لگی۔ وہاں سوشلسٹ مہم کے تحت اسے باقاعدہ منایا جانے لگا۔
اسے 1975 میں اقوامِ متحدہ نے بھی اپنا لیا۔
کئی ممالک میں خواتین کے عالمی دن پر تعطیل ہوتی ہے۔ کئی ملکوں میں اسے احتجاج کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ بعض میں اس دن نسوانیت کا جشن منایا جاتا ہے









