وزیر خارجہ پاکستان: 'انڈیا میں مقبولیت کا آسان طریقہ پاکستان مخالف بیانیہ ہے'

شاہ محمود قریشی
،تصویر کا کیپشنپاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انڈیا میں مقبولیت بڑھانے کا آسان طریقہ پاکستان مخالف بیانیہ ہے۔ انڈیا نے قوم پرستی کو بڑھاوا دے کر اپنی ساخت داؤ پر لگا دی ہے۔

لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈین وزیر اعظم کی ملک میں مقبولیت میں کمی اور انڈیا میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر انھیں انڈیا کی جانب سے کسی ایسے اقدام کا خطرہ تھا جس میں مودی سرکار اپنی مقبولیت بڑھانے کی کوشش کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ اسی خدشے کے پیش نظر ہماری وزارت خارجہ نے پلوامہ حملے سے بہت پہلے ہی سفرا کو خصوصی طور پر بریفنگ دینا شروع کردی تھی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'اس حوالے سے میں نے کئی ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کی اور انہیں صورتحال سے متعلق آگاہ کیا۔'

یہ بھی پڑھیے!

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 'روس کے حالیہ دورے پر بھی ممکنہ طور پر انڈین جارحیت کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور گزشتہ روز روسی وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی بامعنی رہی'۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ 'جب پلوامہ کا حملہ ہوا اور نئی دلی نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو انھیں (روس کو) میری باتیں یاد تھیں۔'

او آئی سی اجلاس کا بائیکاٹ

او آئی سی

،تصویر کا ذریعہTWITTER @MEAINDIA

او آئی سی کے اجلاس میں عدم شرکت سے متعلق انھوں نے واضح کیا کہ 'پارلیمنٹ میں کوئی اختلاف رائے سامنے نہیں آیا، تمام حکومتی اور حزب اختلاف کے قومی اسمبلی و سینٹ اراکین نے متفقہ طور پر اور اتفاق رائے کے ساتھ ایک 21 نکاتی قرارداد منظور کی۔'

ان کا کہنا ہے کہ اس قرار داد کے ذریعے پاکستان نے دنیا کو کشمیر کے مسئلے پر، انڈین جارحیت پر بڑا واضح پیغام دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس قرار داد سے پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے انڈیا کی پارلیمنٹ کو پیغام دیا ہے کہ 'ہم امن کے خواہاں اور داعی ہیں۔ ہم خطے کے امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں آپ کو بھی کرنا چاہیے۔'

انھوں نے بتایا کہ مسلح افواج نے ثابت کردیا کہ وہ جارحیت کےمقابلے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ اسلام آباد امن کا خواہاں ہے لیکن کسی بھی نوعیت کے حملے کی صورت میں ردعمل دینا ضروری تھا۔

وزیر خارجہ نے خواہش ظاہر کی کہ 'گفت و شنید سے پاک انڈیا کشیدگی کم ہو۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے ارکان کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نئی دلی اور واشنگٹن کے مابین تعلقات بہت قریبی ہیں اس لیے امریکا انڈیا پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے پاکستانی میڈیا کی تعریف کی اور کہا کہ 'پاکستانی میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے امن کے لیے مثبت کردار ادا کیا'۔

انھوں نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ انڈین پائلٹ کو رہا کرنے میں کوئی عالمی دباؤ نہیں تھا۔