عاصمہ شیرازی کا کالم: انڈیا کو جواب، پاکستان کے آپشنز کیا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عاصمہ شیرازی
- عہدہ, صحافی
دہلی کا جنوبی بلاک جہاں انڈیا کا دفتر خارجہ قائم ہے 14 فروری پلوامہ حملے کے بعد سے اب تک خاموش نہیں رہا۔
پلوامہ حملے کی ذمہ داری جیشِ محمد نے کیا قبول کی کہ ساؤتھ بلاک متحرک ہوا۔
پہلے مرحلے میں پورے انڈین میڈیا کو لگاتار جنونی کیفیت میں مبتلا کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں انڈیا میں موجود تمام خارجہ مشنز سے میل ملاقات اور رابطے کیے گئے۔
عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوری طور پر کل جماعتی کانفرنس بلائی گئی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھایا گیا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا گیا اور ہم آواز ہو کر دنیا کو بتایا گیا کہ جیشِ محمد سے عالمی امن کو کتنا خطرہ ہے۔
پوری تیاری کے ساتھ پاکستان پر الزام دھرا گیا کہ انڈیا ہی نہیں خطے کے امن کو لاحق خطرات کا واحد ذمہ دار پاکستان ہی تو ہے۔
14 فروری سے لے کر 25 فروری، پلوامہ واقعے سے بالاکوٹ حملے تک انڈیا نے ایک فضا بنائی، اندرونی اور بیرونی رائے عامہ ہموار کی اور سفارتی گھنٹیاں بجائیں۔
یہاں تک کہ سعودی شہزادے کے دورے کے دوران پاکستان کے بہترین دوست سے پاکستان مخالف بیان دلوانے کی بھرپور مہم چلائی گئی اور میڈیا اور عوام کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا مگر خاطر خواہ کامیابی نا ملی۔۔
انڈیا کی سفارتی سطح پر واویلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود دہلی میں موجود کم و بیش 150 سے زائد سفارتی مشنز کے نمائندوں اور سربراہ کو ہنگامی طور پر بلا کر بریفنگ دی گئی۔
انڈیا میں سفارتکاروں کے سربراہ نے ایک بیان میں نہ صرف انڈیا کی کوششوں کو سراہا بلکہ بالاکوٹ حملے کو جائز قرار دیتے ہوئے اپنے دفاع کے لیے پیشگی بچاؤ کے لیے حملہ یعنی ’پری ایمپٹو سٹرائک‘ قرار دے ڈالا۔

،تصویر کا ذریعہGoogle
یعنی حملہ بھی پاکستان پر ہوا اور مظلومیت کا ڈرامہ بھی انڈیا نے رچایا جو دنیا کے سر چڑھ کر بھی بولا۔ آخر ایسا کیوں؟
اب ذرا دیکھئے کہ گزشتہ دس دنوں میں ہم نے کیا کیا؟ پلوامہ سے محض ایک دن قبل ایران میں انقلابی گارڈز پر حملہ ہوا۔ ایران نے الزام نہ صرف پاکستان پر دھرا بلکہ دھمکی آمیز زبان بھی استعمال کی۔ پاکستان نے ایران کے تحفظات کس حد تک دور کرنے کی کوشش کی یہ تا حال معلوم نہیں ہو سکا۔
ایسے میں اگلے دن پلوامہ کا الزام۔۔۔ یعنی الزام در الزام۔۔۔
ان دس دنوں میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں چور چور کا شور بلند ہوتا رہا اور اس اہم پلیٹ فارم کو متحد کرنے کی کوئی کوششں نظر نہیں آئی۔ یہاں تک کہ قومی قیادت تک کو ایک ساتھ نہیں بٹھایا گیا کہ باہم مشورہ کیا جائے کہ انڈین جارحیت کی صورت مجموعی دانش مندی کیا ہو گی۔
بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا اصل مسئلہ یعنی حق خودارادیت اور جائز کشمیری تحریک، نوجوانوں میں بغاوت کا رجحان، تحریک آزادی میں خودکش حملوں کا عنصر سمیت دنیا کو خبر کرنے کی کوششش نہیں کی گئی۔
گویا پاکستان نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کو اجاگر کرنے کے ایک اہم موقعے سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔
اسی دوران فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان کو انتباہ موصول ہوا جس میں واضح لفظوں میں خبردار کیا گیا کہ دہشت گرد تنظیموں جن میں جیشِ محمد سے لے کے حقانی نیٹ ورک تک شامل ہیں کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے سے متعلق اقدامات ناکافی ہیں۔
اس بیان کے بعد انڈیا کے موقف کو بھرپور شہ ملی اور نتیجہ اب سامنے ہے۔
اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی البتہ اس حد تک ہمارے ساتھ ہے کہ انڈیا کی در اندازی کی مذمت کی گئی ہے تاہم پاکستان کی رضامندی پر انڈیا کو اعزازی مہمان کے طور پر بلانے کے بعد یہ تنظیم انڈیا کی شرکت کو منع کرے گی یا نہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے آپشنز کیا ہیں؟
فوجی اور سفارتی سطع پر لائحہ عمل کیا ہوگا؟ کیا پاکستان انڈین جارحیت کا فوجی جواب دے گا؟ ایسی صورت میں دنیا کی جانب سے کیا ردعمل ہو گا؟ اور اس کے بعد ایک نئی جنگ خطے میں امن کے ماحول کو کس حد تک خراب کر دے گی؟ اس پر بھی غور کرنا ہو گا۔
اس وقت پاکستان کی حکومت اور افواج پر سخت دباؤ ہے۔ کسی قسم کی جلد بازی میں اُٹھایا جانے والا قدم کسی نا قابلِ تلافی نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ لہذا پھونک پھونک کر قدم اُٹھانا ہو گا۔
انڈیا کو جواب دینا بھی ضروری ہے ورنہ دوسری صورت میں انڈیا آئندہ بھی ایسے حملے کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
جواب دیا گیا تو ہم عالمی برادری کی حمایت حاصل کر پائیں گے یا نہیں اس کی جمع تفریق بھی ضروری ہے۔ سلالہ واقعے میں امریکی افواج کی اندرونی مداخلت کے بعد اس وقت کی حکومت نے امریکہ کو نیٹو سپلائی بند کر کے سخت اور بھر پور پیغام دیا تھا۔
پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا۔۔۔
کیا اب ہم سیاسی، معاشی، دفاعی اور خاص کر کے سفارتی سطح پر جنگ لڑنے اور جیتنے کو تیار ہیں۔ وقت اور موقع اب بھی ہے کہ یہ بھی سوچا جائے کہ آگے بڑھنے کے لئے جذبات کی نہیں عالمی اعتماد کے حصول کے مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ جنگ ہماری خودمختاری اور بقاء کی ہے۔









