بلیک لسٹ کا نظام ماورائے آئین ہے: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی

پاکستان ائیر پورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحکام نے تسلیم کیا کہ بلیک لسٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور لوگوں کو بیرون ممالک جانے سے روکنے کا واحد قانونی راستہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا ہے

قانون سے متعلق پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے لوگوں کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے ملک میں رائج بلیک لسٹ کے نظام کو ماورائے آئین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے قانون کا اطلاق لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہیں۔

قانون اور انصاف سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بلیک لسٹ کے نظام سے متعلق اپنی سفارشات کو ایوان میں پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ انسانی حقوق سے متصادم قوانین کے اطلاق سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوتی ہے۔

انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے بلیک لسٹ نظام کے بارے میں کہا ہے کہ اس طرح کا اقدام جمہوریت میں قابل قبول نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بلیک لسٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور ایسا اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس رپورٹ میں شیریں مزاری کے اس بیان کو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی کمیٹی کے اجلاس میں متعقلہ حکام نے تسلیم کیا کہ بلیک لسٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور لوگوں کو بیرون ممالک جانے سے روکنے کا واحد قانونی راستہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا ہے۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ کے حکام نے ٹریفک حادثے میں دو افراد کی موت کے ذمہ دار امریکی سفارت کار کا نام بھی بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ امریکہ روانہ ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کا نام بھی بلیک لسٹ میں شامل تھا لیکن اس کے باوجود وہ عمرے کی ادائیگی کے لیے عمران خان کے ساتھ سعودی عرب گئے تھے۔

علی وزیر اور محسن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمحسن داوڑ اور علی وزیر نے اپنے نام ای سی ایل میں شامل کیے جانے پر قومی اسمبلی میں ایک تحریک استحقاق بھی جمع کروائی تھی

اس کے برعکس پشتو تحفظ موومنٹ کے اراکین اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو یہ کہہ کر بیرون ملک جانے سے روک دیا کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے بعدازاں حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں شامل کردیا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلیک لسٹ کے نظام کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ نظام لوگوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس وقت سینکٹروں افراد کو بلیک لسٹ پر رکھا گیا ہے اور متعدد افراد کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہے کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے۔

اس رپورٹ میں ڈی جی پاسپورٹ اینڈ ایمگریشن راشد علی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ بلیک لسٹ کے نظام کو پاسپورٹ مینول سنہ 2006 کے تحت برقرار رکھا گیا ہے ۔

اُنھوں نے کہا کہ بلیک لسٹ کا قانون پاسپورٹ اینڈ ایمگریشن ڈائریکٹریٹ نہیں بناتی بلکہ عدالت کے حکم پر لوگوں کے نام اس فہرست میں شامل کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ اگر کوئی حکومتی ادارہ کہے تو اس پر بھی لوگوں کے نام بلیک لسٹ میں شامل کیے جاتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن کے بیان کو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ صرف بلیک لسٹ پر عمل درآمد کراتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بلیک لسٹ پر عملدرآمد ایک آٹو میٹڈ نظام کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ نظام اس شخص کا کیس پراسس نہیں کراتا جس کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہوتا ہے۔ اس قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ ایکٹ پارلیمنٹ نے بنایا جس میں ایگزیکٹو کو بلیک لسٹ کو برقرار رکھنے کا کوئی اختیار تفویض نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں کمیٹی کے ارکان نے یہ تجویز دی ہے کہ بلیک لسٹ میں لوگوں کا نام شامل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اس رپورٹ میں وزارت داخلہ کے حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ دس روز کے اندر بلیک لسٹ کو ختم کرنے سے متعلق رپورٹ سینیٹ میں پیش کرے۔ واضح رہے کہ وزارت داخلہ کا قلمدان وزیر اعظم عمران خان کے پاس ہے۔