تحریک انصاف کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI/AFP/Getty Images
پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعتوں نے حکمراں اتحاد کے لیے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔
قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ سمیت دیگر چھوٹی جماعتوں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس ضمن میں ایک آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو فوجی عدالتوں کی مدت میں اضافے کے علاوہ دیگر اہم امور پر حکومت سے بات چیت بھی کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی منگل کے روز پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورت حال پر غور کیا گیا۔
یہ ملاقات قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں ہوئی اور اس ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر اہم رہنما بھی شریک تھے۔
اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان حالات میں موجودہ حکومت کو فری ہینڈ دینے کی صورت میں ملک کسی بھی خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI/AFP/Getty Images
اجلاس کے بعد جب میڈیا کے نمائندوں نے سابق صدر اصف علی زرداری سے سوال کیا کہ کیا حزب مخالف کی جماعتوں میں اتحاد کے بارے میں کوئی بات ہوئی ہے جس پر سابق صدر کا کہنا تھا کہ اتحاد پربات ہوئی نہیں ہے بلکہ اتحاد ہو گیا ہے۔
حزب مخالف کی جماعتوں کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتحاد کو بھی فعال بنانے اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
بعدازاں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے اور یہ کمیٹی اپوزیشن کے مشترکہ لائحہ عمل کے لیے تجاویز تیار کرےگی۔
اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت انسانی حقوق پائمال کر رہی ہے اور حزب مخالف کی جماعتیں اس پر خاموشی اختیار نہیں کریں گی۔
میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں حزب مخالف کی تمام جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں نے تمام مسائل کے حل کے لیے ملکرجدوجہد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی جماعتیں وہی راستہ اختیار کریں گی جو بھی ملک کے مفاد میں ہو گا۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں عددی اعتبار سے برتری حاصل ہے اور اگر یہ دونوں جماعتیں چاہیں تو وہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاسکتے ہیں۔ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل نہیں ہے۔
موجودہ حکومت کو قومی اسمبلی میں بھی واضح اکثریت حاصل نہیں ہے اور پاکستان تحریک انصاف اتحادیوں کی بدولت کی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں کے اتحاد پر حکمراں جماعت کا کہنا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کی خاطر نہیں بلکہ ذاتی مفاد کے لیے اکٹھی ہوئی ہیں۔وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان دونں جماعتوں کے اتحاد کے باوجود ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات پر کارروائی نہیں رکے گی۔








