عمران خان: ’روپے کی قدر کے فیصلے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا‘

،تصویر کا ذریعہPti
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چند روز قبل ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں آٹھ روپے کی کمی کے فیصلے کے بارے میں انھیں کوئی علم نہیں تھا اور انھیں بھی خبروں کے ذریعے ہی اس کمی کی اطلاع ملی۔
یہ بات انھوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں چند صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کہی اور یہ انٹرویو بعد میں ٹی وی پر نشر ہوا۔ اس گفتگو میں انھوں نے مختلف موضوعات جیسے ملکی معیشت، فوج سے تعلقات، امریکہ سے تعلقات اور دیگر حکومتی امور کے بارے میں سوالات کا جواب دیا۔
یہ بھی پڑھیئے
روپے کی قدر کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سٹیٹ بینک ایک خود مختار ادارہ ہے اور یہ فیصلہ انھوں نے خود لیا تھا۔ 'میں نے انھیں پیغام پہنچا دیا ہے کہ اب وہ اس نوعیت کا فیصلہ لینے سے قبل ہم سے مشاورت کر لیا کریں۔'
انھوں نے کہا کہ اس طرح قدر میں کمی سے معاشی حالات میں غیر یقینی کی فضا قائم ہوتی ہے لیکن ساتھ میں مزید بتایا کہ 'اب حالات میں بہتری آ رہی ہے اور ہم درست سمت میں جا رہے ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
'چیف جسٹس سے شکایت ہے'
بیرون ملک پاکستانیوں کے امور کے لیے متعین کیے گئے مشیر زلفی بخاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 'مجھے افسوس ہوا کہ انہوں نے زلفی بخاری کو سپریم کورٹ میں کہا کہ میں نے اقربا پروری کی ہے۔ کوئی مجھے بتائے کہ میں نے ایک رشتہ دار، دوست کو سپورٹ کیا، نمل یونیورسٹی میں، شوکت خانم میں، اور پشاور میں بتائیں کہ ایک آدمی کو اقربا پروری یا فیورٹ کے طور پر لیا ہو۔'
ان کا کہنا تھا کہ ' خیبرپختونخوا میں میری حکومت کو پانچ سال ہوئے، مجھے بتائیں کہ میں نے ایک رشتہ دار یا دوست کو کوئی پوزیشن دی ہو۔ مجھے اس کا بڑا افسوس ہوا کہ چیف جسٹس صاحب نے سپریم کورٹ میں کہا کہ یہ اقربا پروری ہوئی ہے۔'
اعظم سواتی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ اس پر ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور وہ کسی کو بچانے کے لیے اداروں کے کام میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔
’جو بھی سپریم کورٹ کہے گا اس پر عمل ہو گا اور اگر اعظم سواتی پر جرم ثابت ہوتا ہے تو ان کو استعفی دینا ہوگا۔'
'فوج پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے'

،تصویر کا ذریعہiSPR
فوج اور حکومت کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت کے پاس بہت سے اختیارات ہیں اور بہت کچھ کر سکتی ہے اور فوج پوری طرح پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ کرتار پور پر بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔
'اب تک لیے جانے والے تمام فیصلے میں نے خود لیے ہیں اور اب تک کوئی بھی ایک ایسا فیصلہ نہیں ہے جس پر ہمیں فوج کی حمایت نہ ہو۔'
ان کا کہنا تھا کہ جہاں سیکیورٹی کی ضرورت ہوگی وہاں اسٹیبلیشمنٹ کا کردار ہوگا اور جنرل باجوہ کی اسٹیبلیشمنٹ مکمل طور پر جمہوری ہے۔
’لاپتہ افراد کا مسئلہ'
وزیراعظم عمران خان نے لاپتہ افراد کے حوالے سے کہا کہ میں نے فوج سے اس حوالے سے پوچھا ہے اور تفصیلات معلوم کی ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ جنرل باجوہ نے لاپتہ افراد کے حوالے سے کہا ہے کہ کئی لوگوں کو چھوڑا گیا ہے اور کئی کی شناخت کی جا رہی ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اخترمینگل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اختر مینگل کسی اجلاس میں نہیں آئے حالانکہ انہیں اجلاس میں بلایا گیا تھا اور اس حوالے سے مجھے جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پورا تعاون حاصل ہے۔
کشمیر کے مسئلے پر ان کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ کا گگلی کے حوالے سے بیان کا مطلب بھی اسی حوالے سے تھا کیونکہ کرتار پور کے بعد وہ ہمیں زیر نہیں کر سکتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'پاکستان-امریکا تعلقات'
پاکستان اور امریکا تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ میں نے امریکی صدر ٹرمپ کو ٹویٹ کے جواب میں کوئی غلط بات نہیں اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں۔
'اس جنگ کا حصہ بن کر ہمیں بہت نقصان ہوا ہے اور اب سے ہم کوشش کریں گے کہ مستقبل میں پاکستان مصالحتی کردار ادا کرے اور اسی لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خط لکھا ہے اور طالبان سے مذاکرات کے لیے مدد مانگی ہے۔'
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان امن کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے اس خط کے بارے میں اپنے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان افغان جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ خط کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جنگ میں پاکستان اور امریکہ دونوں ممالک کو بہت نقصان ہوا ہے اور اب ضروری ہے کہ دونوں ملک ساتھ مل کر کام کریں اور اپنی شراکت کو نئے سرے سے استوار کریں۔'
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے ملنے والے خط کی تصدیق کی ہے۔
'حزب اختلاف مجھے بلیک میل کرنا چاہتی ہے'

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بارے میں کیے گئے سوال پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حزب اختلاف کو کھلی چھوٹ دی ہے کہ وہ کسی کو بھی نامزد کر دیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی صاف نام کو نہیں پیش کر رہے۔ وہ ہمیں مجبور کرنا چاہ رہے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ این آر او کر لیں۔ وہ مجھے بلیک میل کرنا چاہ رہے ہیں لیکن میں کرپشن کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا اور نہ ہی انھیں بچ کر جانے دوں گا۔'
’وہ لوگ جنھوں نے میثاق جمہوریت کے نام پر ملک کی دولت لوٹی ہے وہ مجرم ہیں۔‘
انھوں نے اس پر مزید کہا کہ پارلیمان کے پہلے دن حزب اختلاف کا رویہ سامنے تھا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ این آر او چاہتے ہیں۔ 'میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ اور پاک فوج ہمارے منشور پر ساتھ ہیں اور پاکستان کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔'
'یوٹرن لینا عقل مندی ہے'
حکومت کے لیے جماعتوں سے اتحاد پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے یوٹرن کو عقل مندی کہا ہے کیونکہ کوئی بھی رہنما اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایسا کرے گا اور جب تک میں جو پالیسی بنارہا ہوں اس پر کوئی اتحادی رکاوٹ نہ بنے اس وقت تک کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے اتحاد نہیں کرنا تھا کیونکہ ان سے اتحاد کا مطلب تھا کہ کرپشن کے خلاف اپنے مقاصد پر سمجھوتا کیا جائے۔'
'تحریک لبیک پاکستان کا معاملہ'

،تصویر کا ذریعہAFP
انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعت ٹی ایل پی کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقمستی سے انہوں نے غلط رویہ اپنایا۔
'ہم نے حکومت میں آتے ہی ہالینڈ میں کارٹون کا مقابلہ ختم کروایا ورنہ یہ تو پھر آنے والے تھے اور ہم عالمی طور پر اس حوالے سے کام کر رہے ہیں لیکن یہ مجھے ایسے ظاہر کر رہے ہیں جیسے میں یہودیوں کا ایجنٹ ہوں۔'
ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ سپریم کورٹ کرتا ہے اور یہ مجھے نشانہ بناتے ہیں اور ان لوگوں کو خوف ہے کہ یہ پکڑے جائیں گے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے 100 دن کی کارکردگی کے بارے میں مزید پڑھیے
'جس سطح پر کرپشن ہوئی ہے اس کا ہمیں بھی اندازہ نہیں تھا'
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا اگر ہم کرپشن کے موجودہ دور سے چھٹکارا نہ حاصل کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ 'چین نے حالیہ برسوں میں چار سو وزرا کو کرپشن پر سزائیں دی ہیں۔'
انھوں نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن کا نظام انھوں نے ایجاد نہیں کیا اور یہ ان کی ذاتی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس سطح پر کرپشن ہوئی ہے اس کا ہمیں بھی اندازہ نہیں تھا اور اس کا اگر لوگوں کو پتہ چلے تو وہ حیران رہ جائیں گے۔
'ہم ایسی قانونی اصلاحات لے کر آ رہے ہیں جس کے تحت مقدمے ایک سال میں نمٹ جائیں گے۔ ہم وہسل بلور ایکٹ بھی لا رہے ہیں جو پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لیے بہت کام آئے گا۔'
وزیراعظم نے کہا کہ وہ پرانے لوگ جنہوں نے نظام سے پیسہ بنایا وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ یہ حکومت جلدی جائے گی۔
'نیب کام کرتی تو 50 کرپٹ لوگ اندر ہوتے لیکن وہ چھوٹے چھوٹے لوگوں پر ہاتھ ڈال رہے، ملائیشیا میں دائرہ کار بہت وسیع ہے لیکن یہاں پر سات فیصد ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایف آئی اے کو بھی ٹھیک کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور بڑے بڑے ناموں پر ہاتھ ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے بیرون ملک سے جائیدادوں کی واپسی کے حوالے سے کہا کہ پہلے قدم کےطور ہم نے 26 ملکوں سے معاہدے کیے ہیں اور جو دستاویزات آئیں ان سے معلوم ہوا کہ 11 ارب ڈالر بیرون ملک بینک اکاؤنٹس میں موجود ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تین دن پہلے سوئٹزرلینڈ سے معاہدے پر دستخط کیا گیا ہے اور وہاں سے پوری معلومات آئیں گی تو معلوم ہوگا کہ کس کس کے اکاؤنٹس ہیں اور کتنا غیر قانونی پیسہ باہر موجود ہے۔
سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک رہنما آصف زرداری کی جانب سے حکومت کے نہ چلنے کے بیان پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سب کی خواہش یہ ہے کہ حکومت نہ چلے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ جتنا عرصہ یہ حکومت چلے گی سب کی باری آئے گی۔









