کراچی حملہ: ’میری دعا میں شاید اثر نہیں تھا‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’میں نے آج صبح ہی جاتے ہوئے اپنے بھائی کو دیکھا اور اس کو خدا حافظ کر کے اُس کی سلامتی کی دعا کی۔۔۔ میری دعا میں شاید اثر نہیں تھا۔‘ یہ کہنا ہے پولیس کانسٹیبل محمد عامر خان کی بہن زاہدہ کا۔
جمعے کی صبح کراچی میں قائم چین کے قونصل خانے میں بلوچ علیحدگی پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے جن میں دو پولیس اہلکار، اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد اشرف داؤد اور پولیس کانسٹیبل محمد عامر خان بھی شامل ہیں۔
محمد عامر خان اپنے خاندان کے تیسرے فرد ہیں جو عسکریت پسندی کے کسی واقعے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے ان کے بھائی محمد انور اور ان کے بھتیجے محمد آصف بھی عسکریت پسندی کے واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔
کراچی کے علاقے نیلم کالونی کے رہائشی محمد عامر اور ان کے خاندان کا تعلق مردان سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زاہدہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی محمد انور ایس ایس پی کرائم انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ چوہدری اسلم کے اوپر ہونے والے حملے میں بچ گئے تھے۔ لیکن دو سال بعد دہشت گردی کے ایک اور واقعے میں ہلاک ہوگئے۔
زاہدہ نے کہا کہ ’ہمارے اوپر یہ گھڑی پہلے بھی بیت چکی ہے اور اس بار پھر یہی ہوا جس کا ڈر تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
نیلم کالونی میں جس وقت میں زاہدہ سے بات کرنے پہنچی، اس وقت ان کے علاقے کے تقریباً سبھی لوگ ان کے گھر تعزیت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ محمد خان کی بیوی اور ان کی والدہ بات نہیں کر پارہے تھے، اور زاہدہ اپنے گھر کی واحد فرد تھیں جو تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں سے بات کررہی تھیں۔
پاکستان میں عسکریت پسندی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی ایک بہت طویل فہرست ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین معاوضے کی وصولی کے لیے اکثر پولیس کے مختلف ڈیپارٹمنٹ کے چکر لگاتے رہ جاتے ہیں۔
زاہدہ کہتی ہیں کہ ’ہماری بھابھی ابھی تو ہمارے ساتھ ہے، جیسے پہلے والے بھائی کی بیوہ اور ان کے بچے بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ کسی نہ کسی طرح گھر کا خرچ چلانا ہی پڑے گا۔‘









