سہائی عزیز بہادر پولیس افسر جنھوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ پہلے چینی سفارتخانے پر حملہ کرنے والوں کا مقابلہ کیا

سہائی عزیز

،تصویر کا ذریعہSuhaiAziz/ FACEBBOK

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’لڑکیاں نازک نہیں بلکہ بہادر ہوتی ہیں اور عورت صرف بہادری نہیں بلکہ جذبہ بھی ہوتا ہے۔‘ یہ الفاظ سندھ پولیس کی ایس پی سہائی عزیز تالپور کے ہیں جو انہوں نے ماضی میں اپنے ایک انٹرویو میں کہے تھے۔ جمعہ کو انھوں نے چینی سفارتخانے پر حملے میں مرکزی کردار ادا کر کے اس کو ثابت بھی کر دیا۔

سہائی عزیز کا تعلق سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان کے گاؤں بھائی خان تالپور سے ہے، انھوں نے 2012 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا تھا، وہ دیہی سندھ کی پہلی کمیشنڈ پولیس افسر ہیں۔

سہائی عزیز تالپور کے والد عزیز تالپور سندھ کے پرانے سیاسی ورکر ہیں، وہ عوامی تحریک میں رسول بخش پلیجو کے ساتھ شامل رہے، ان کا کہنا ہے کہ سہائی صرف دیہی سندھ کی ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان اور سندھ کے بلوچ قبائل کی پہلی کمشینڈ افسر ہیں۔

سہائی کی دوران تربیت پولیس ہیڈ کوارٹر میں تعیناتی رہیں اور بعد میں انہیں ایس پی جامشورو تعینات کیا گیا، جہاں وہ خواتین کی ہراسمنٹ سیل کی سربراہ بھی تھیں۔

جام شورو میں تین بڑی جامعات ہیں جہاں اس قسم کی شکایت عام ہیں، سہائی عزیز نے اس صورتحال پر ایک تحقیقی رپورٹ بھی تیار کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ قانونی سازی اور ادارے خواتین کے لیے مددگار ثابت نہیں ہو رہے۔

جامشورو کے بعد سہائی عزیز کو ایس پی کلفٹن تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے پوش علاقوں میں طالب علموں میں منشیات کے خلاف بھرپور کارروائی کی، جس میں سوشل میڈیا پر ہونے والی تجارت بھی شامل تھی۔

چینی سفارتخانے پر حملے کی اطلاع پر پہلے ان کی سربراہی میں پولیس ٹیم پہنچی، جس نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ سب سے پہلے ایس ایچ او کلفٹن اور ایس پی سہائی عزیز تالپور نے کارروائی کی جس سے حملہ آور پیچھے ہٹے۔

وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سہائی عزیز کو شاباش دی اور کہا کہ یہ ہیں ہماری خواتین جو سب سے آگے ہیں۔

دوسری جانب آئی جی سندھ کی جانب سے اے ایس پی کلفٹن سہائی عزیز کو قائداعظم پولیس میڈل دینے کی سفارش کی گئی ہے، وہ پاکستان اور سندھ پولیس کی پہلی خاتون افسر ہیں جن کا نام اس میڈل کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔

اس آپریشن کے بعد ہی سوشل میڈیا پر بھی سوہائی عزیز تالپور کو سراہا جانے لگے، اور دیکھتے ہی دیکھتے #SuhaiTalpur ٹرینڈ کرنے لگا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ٹوئیٹر صارف لالین نے لکھا، 'یہ ہے وہ جانباز پولیس افسر جس نے دہشت گردی کے خلاف آج کی کارروائی کی سربراہی کی۔ وہ ’پاکستان کی بیٹی‘ نہیں۔ یہ ایک پاکستانی ہیں، ایک افسر ہیں۔ ان کی پذیرائی کریں لیکن ان کی تعریف ایک بہن، بیٹی یا عورت کے طور پر نہ کریں۔ ایس ایس پی سہائی تالپور کی اپنی ایک شناخت ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

عزیز بلور کی بیٹی مونا بلور نے لکھا، ہمیں آپ پر فخر ہے سہائی تالپور! آپ ملک کے ہر مرد اور عورت کے لیے امید اور بہادری کی علامت ہو۔ آپ کو سلام!