اورکزئی: شیعہ اکثریتی علاقے میں میلے میں دھماکہ، بچوں سمیت 30 ہلاک

اورکزئی، کلایا

،تصویر کا ذریعہKP POLICE

،تصویر کا کیپشناورکزئی میں جس علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے وہاں اہل تشیع کی اکثریت بتائی جاتی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے ضلع اورکزئی کی مقامی انتظامیہ کے مطابق ایک بازار میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

یہ دھماکہ تحصیل کلایہ میں لگنے والے ہفتہ وار میلے میں ہوا ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق جمعے کی صبح میلہ لگا ہوا تھا کہ اس دوران بازار میں واقع مدرسۂ اہلبیت کے سامنے دھماکہ ہوا۔

جس علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے وہاں اہل تشیع کی اکثریت بتائی جاتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے اورکزئی کے ایجنسی سرجن کے مطابق ان کے ہسپتال میں 25 لاشوں کے علاوہ 35 زخمی بھی لائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مقامی انتظامیہ کے ایک ترجمان عبدالرحمان مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ایک موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

اورکزئی، کلایہ

،تصویر کا ذریعہKP POLICE

،تصویر کا کیپشندھماکہ تحصیل کلایہ میں لگنے والے ہفتہ وار میلے میں ہوا ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے

نامہ نگار کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو کلایہ کے علاوہ پشاور اور کوہاٹ بھی منتقل کیا گیا ہے۔

کلایہ کے قریب ہنگو سے مقامی صحافی صالح دین نے بتایا کہ علاقے کو سکیورٹی اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ٹیلیفون کام نہیں کر رہے جس وجہ سے رابطہ مشکل سے ہو پا رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کراچی میں چینی قونصل خانے اور اورکزئی میں ہونے والے دونوں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’یہ بالکل واضح ہے کہ یہ دونوں حملے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے ہیں تاکہ ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا کیا جائے۔‘

عمران خان نے لکھا: ’کسی کو بھی ذرا سا بھی شک نہیں ہونا چاہیے، ہم دہشت گردوں کو ختم کر دیں گے چاہے کچھ بھی کرنا پڑے۔‘

اورکزئی، کلایہ

،تصویر کا ذریعہKP POLICE

،تصویر کا کیپشنجمعے کی صبح میلہ لگا ہوا تھا کہ اس دوران بازار میں واقع مدرسۂ اہلبیت کے سامنے دھماکہ ہوا

خیال رہے کہ ماضی میں اورکزئی کے علاقے میں شدید فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی رہی ہے اور یہاں پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاکتوں کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

اورکزئی کو ضلع کا درجہ رواں سال اس وقت دیا گیا جب قبائلی علاقوں کو خیبر پختوخوا میں ضم کر دیا گیا۔ اس سے قبل یہ وفاق کے زیر انتظام اورکزئی ایجنسی تھی۔ اورکزئی سنہ 1973 سے پہلے کوہاٹ کا قبائلی علاقہ کہلاتا تھا یعنی ایف آر کوہاٹ۔

خیال رہے کہ ماضی میں اورکزئی ایجنسی میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جس کا سلسلہ سنہ 2006 کے بعد شروع ہو گیا تھا۔

یہاں جب طالبان آئے تو بعض قبائل نے ان کی مخالفت کی جس پر یہاں حالات کشیدہ رہے ہیں۔ اس علاقے میں اہل تشیع بھی آباد ہیں اور یہاں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات بھی معمول سے پیش آتے رہے ہیں۔

کلایہ لوئر اورکزئی کا علاقہ ہے جہاں زیادہ تر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔