پاکستان میں غیر شادی شدہ خواتین اور کرائے کے مکان

    • مصنف, حسین عسکری
    • عہدہ, بی بی سی اردو، سروس لندن

پاکستان میں غیر شادی شدہ خواتین اور ایک اکیلی خاتون کے لیے کرائے پر مکان حاصل کرنا کتنا مشکل ہے اِس کا اندازہ صرف ان ہی خواتین کو ہو سکتا ہے جنھوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہو۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کے تجربات، خیالات اور آراء اِس سماجی مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ یہ مسئلہ لوگوں کے اردگرد موجود ہے لیکن عموماً اس وقت تک آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے جب تک کوئی غیرشادی شدہ یا اکیلی عورت اِس پر بات نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا پر یہ موضوع اس وقت زیربحث آیا جب ایک خاتون نے اپنی ٹویٹ میں اپنا ایک تجربہ شیئر کیا۔

’ اسلام آباد میں پچھلے ڈیڑھ برس کے دوران تیسری مرتبہ آج میں نے مکان کی تلاش شروع کی ہے۔ میں یہاں کام کی وجہ سے آئی ہوں۔ مندرجہ ذیل وہ چند باتیں ہیں جو میں نے بلڈنگ مینیجروں اور لینڈ لارڈز / لینڈ لیڈیز سے سنی ہیں۔‘

اس کے بعد انھوں نے اپنا تجربہ یوں بیان کیا۔

اپارٹمنٹ بلڈنگ کا ایک مرد مینیجر:

دیکھیں اگر میں ایمانداری سے بات کروں تو ہم یہ غیر شادی شدہ خواتین کو نہیں دیتے۔

میں اور میری ہاؤس میٹ: او کے، کیوں؟

بلڈنگ مینیجر: اگر ہم ایک اپارٹمنٹ دیں گے تو ساری بلڈنگ خراب ہو گی۔

ہم: کیسے، خراب سے آپ کا کیا مطلب ہے۔

بلڈنگ مینیجر: غیر شادی شدہ لوگ، آپ جانتی ہیں۔

اِس کے بعد انھوں نے مزید لکھا ’ایک اور مالکِ مکان خاتون نے جو اپنی بہن کے ساتھ رہتی ہیں مجھ سے 527292 سوالات کیے۔ پھر انھوں نے کہا کہ دراصل وہ اپنا مکان کسی ایسی فیملی کو دینا چاہتی ہیں جو مردوں کے ساتھ ہو۔

اِن تجربات پر نہ صرف خواتین بلکہ مردوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

گیلانی نے لکھا کہ وہ بھی کراچی میں ایسے ہی تجربے سے گزر رہے ہیں اور ایسے برتاؤ کی بے شمار مثالیں ہیں۔

فرح نے لکھا: ’آپ یہ یاد رکھیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں رہتی ہیں جہاں ایک عورت اپنے والد یا شوہر کی اتھارٹی کے بغیر شناختی کارڈ بھی حاصل نہیں کر سکتی۔ پاکستان میں عورت کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے وہ یا تو ماں ہے یا بہن یا بیٹی۔‘

غیر شادی شدہ اور اکیلی خواتین کو کرائے پر مکان حاصل کرنے میں مشکلات پاکستانی معاشرے کے کئی رحجانات کی عکاسی کرتی ہیں۔

ایک طرف تو ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کا ایک بڑا حصہ اِس بات کو نہیں سمجھتا کہ عورت کی اپنی ایک علیحدہ شخصیت بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب یہ مسئلہ عورتوں کے بارے میں کئی مخصوص تعصبات اور گھسے پٹے خیالات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

مذکورہ خاتون کی جنھجلاہٹ شاید اسی جانب ایک اشارہ ہے۔ ’اس شہر، اس ملک میں میرا دم گھٹتا ہے۔ مجھے بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ غیر شادی شدہ ہونا باعثِ شرمندگی ہے۔ یہ میرے بارے میں ہر چیز کو ایک حقارت بھرے نکتے تک محدود کر دیتا ہے۔‘

جب کوئی مالک مکان کسی غیر شادی شدہ عورت یا عورتوں کو اپنا مکان دینے سے منع کرتا ہے تو اِس کی وجہ وہ خیالات ہیں جو معاشرے میں عورتوں کے بارے میں کافی مضبوطی اور گہرائی سے موجود ہیں۔ اِن خیالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تک عورت کی شادی نہ ہو جائے وہ محفوظ نہیں ہے اور یہ معاشرہ اِسے تحفظ فراہم کرنے کی خود ساختہ ذمہ داری اٹھا لیتا ہے۔