پختونخوا میں طلبہ کی طرف سے سکول چھوڑنے میں اضافہ کیوں؟

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئئ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
سمیر احمد کا تعلق پشاور کے علاقے دلہ زاق روڈ سے ہے۔ چند ماہ پہلے تک وہ نویں جماعت کے طالب علم تھے لیکن انگریزی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے وہ سکول چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
15 سالہ سمیر احمد آج کل آٹو رکشہ مکینک کے معاون کے طور پر کا کام کرتے ہیں۔ انھیں روزانہ 100 روپے کی دیہاڑی ملتی ہیں جبکہ اس کے ساتھ وہ مکینک کا کام بھی سیکھ رہے ہیں۔
سمیر احمد کا کہنا ہے کہ انھیں انگریزی زبان سمجھ نہیں آتی تھی جس کی وجہ سے انھیں اکثر اوقات مشکل پیش آتی تھی۔ ان کے مطابق 'آج کل سکولوں میں سوائے اردو کے تمام مضامین انگریزی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر غریب طلبہ تعلیمی سلسلہ منقطع کر رہے ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ جو اساتذہ انھیں انگریزی پڑھاتے تھے وہ بھی اس زبان سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنے سامنے گائیڈ رکھ کر طلبا کو سمجھانے کی کوشش کرتے تھے لیکن اکثر طالب علموں کو ان کی باتیں سمجھ نہیں آتی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں آج کل تعلیم حاصل کرنے کا بظاہر کوئی فائدہ نظر نہیں آتا کیونکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں ملتی۔ ان کے مطابق ان کے بھائی اور کزن 12ویں اور 14ویں جماعت تک پڑھ چکے ہیں لیکن ان میں کسی کو بھی ابھی تک نوکری نہیں ملی ہے بلکہ دونوں مسلسل بے روزگار ہیں۔

'جب آپ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہو تو ایسے میں خوامخواہ والدین کا پیسہ اور اپنا وقت کیوں ضائع کیا جائے، اس سے بہتر ہے کوئی ہنر ہی سیکھ لیا جائے کم از کم یہ پچھتاوا تو نہیں رہے گا کہ تعلیم بھی حاصل کی اور نوکری بھی نہیں ملی۔'
صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ تقریباً چھ سالوں کے دوران سب سے زیادہ یعنی تقریباً 130 ارب روپے کا بجٹ تعلیم پر خرچ کیا گیا لیکن اس کے باوجود طلبہ کی طرف سے سرکاری سکول چھوڑنے کا تناسب بڑھتا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمہ تعلیم کی ویب سائیٹ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2012 اور 2013 میں تقریباً 685000 طلبہ نے ابتدائی کلاسوں میں داخلہ لیا لیکن ان چھ سالوں کے دوران ان میں سے لگ بھگ 315883 طلبہ و طالبات کسی نہ کسی وجہ سے اپنا تعلیمی سلسلہ برقرار نہیں رکھ سکے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق پرائمری اور سیکنڈری سطح پر طلبہ کی طرف سے سکولوں کو خیر آباد کہنے کا تناسب تقریباً 40 سے 44 فیصد تک رہا ہے۔

اکثر ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ پرائمری سطح پر سرکاری سکولوں کے اساتذہ انگریزی سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے یا وہ اس طرح اس مضمون کو نہیں پڑھاسکتے جس طرح وہ اردو میں سمجھاتے ہیں جسکی وجہ سے بعض اوقات طلبہ سکول چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
دلہ زاق روڈ پشاور میں واقع ایک سرکاری مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر روح اللہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کی طرف سے سکول چھوڑنے کی بنیادی وجہ غربت اور بے روزگاری ہے جبکہ اس کے علاوہ سکولوں میں گنجائش سے زیادہ طلبہ کو رکھنا بھی ایک بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔
'میرے سکول میں تقریباً 90 فیصد طلبہ کے والدین لیبر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو بمشکل اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ ان میں ایسے طلبا بھی ہیں جن کے والد یا تو مرچکے ہیں یا پھر کسی موذی بیماری میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔'
یہ بھی پڑھیے
ان کے بقول اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ بچوں کے والدین سکول کے اوقات میں ہی اپنے بچوں کو لینے آجاتے ہیں تاکہ وہ ان کو اپنے ساتھ کام پر لے جاسکیں اور یہ معمول بنتا جارہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ مزدور کار طبقے کے لیے یہ انتہائی مشکل ہے کہ وہ اکیلی کمائی سے اپنے بیوں بچوں کا پیٹ پال سکے۔

روح اللہ کا کہنا تھا کہ زیادہ تر سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے جسکی وجہ سے وہاں پڑھائی کا ماحول بنانا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے۔
'میرے سکول کے ہر درجے میں تقریباً 140 کے قریب طلباء پڑھتے ہیں اور ہر پیریئڈ 40 منٹ پر مشتمل ہے، اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو ان 40 منٹوں میں تو استاد ان بچوں کو خاموش بھی نہیں کراسکتے، انھیں پڑھائیں گے کیا۔'
محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے طلبہ کے سکول چھوڑنے سے متعلق وجوہات جاننے کے لیے حال ہی میں ایک سروے کا اہتمام بھی کیا جس میں غربت، عدم دلچسپی اور سکولوں کی تعداد میں کمی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ چند سالوں کے دوران سب سے زیادہ توجہ تعلیم کے شعبے پر دی گئی ہے جس سے کسی حد تک اس سیکٹر میں کام بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم سکولوں کی تعداد میں کمی اور تربیت یافتہ اساتذہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ شعبہ بدستور مشکلات کا شکار ہے۔










