آئی جی اسلام آباد کی تبدیلی کا معاملہ: ’ایسے حکمران لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کریں گے؟‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تبدیل کرنے کے واقعے سے متعلق حقائق جاننے کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو وفاقی وزیر اعظم سواتی کے اثاثوں کی چھان بین بھی کرے گی۔
اس تین رکنی کمیٹی میں قومی احتساب بیورو، انٹیلیجنس بیورو اور ایف آئی اے کے افسران شامل ہوں گے۔
سپریم کورٹ اسلام آباد پولیس کے سربراہ جان محمد کی جانب سے اس استدعا کے بعد کہ ان کی ٹرانسفر کے جو زبانی احکامات جاری کیے گئے ہیں ان پر عمل درآمد کردیا جائے، کیونکہ وہ ایسے حالات میں اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکیں گے، آئی جی کی تبدیلی کے بارے میں وزیراعظم کا زبانی حکم معطل کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے نہ صرف غریب لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کروایا بلکہ اُن کی خواتین کو بھی جیل بھجوانے سے دریغ نہیں کیا۔
انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’ایسے ہوتے ہیں حکمران جو لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کریں گے؟‘
اس کیس کے حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے متاثرہ شخص نیاز محمد عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ اگرچے ان پر ظلم ہوا ہے لیکن وہ اعظم سواتی کو معاف کرتے ہیں کیونکہ اس سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صلح نامہ اس وقت ہوتا ہے جب فریقین ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں لیکن یہاں پر تو معاملہ ہی الٹا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر وہ وفاقی وزیر کو معاف کر بھی دیں لیکن جرم ریاست کے خلاف ہوا ہے اور قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں۔
عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ جان محمد سے استفسار کیا کہ اُنھوں نے دوسرے فریق نیاز محمد کا مقدمہ درج کیوں نہیں کیا، جس پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت بیرون ملک تھے۔
علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے دفتر میں اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست نہیں آئی۔
اعظم سواتی کے وکیل نے عدالت میں فریقین کے درمیان ہونے والے صلح نامے کی کاپی بھی پیش کی جس میں اس واقعے کی ذمہ داری مقامی پولیس پر ڈالی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہYouTube
وفاقی وزیر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل اپنے رویے پر شرمندہ ہیں اور وہ عدالت سے معافی مانگتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اعظم سواتی شرمندہ نہ ہوتے تو معافی کیوں مانگتے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے کو بھی سامنے لائے گی کہ کیوں نہ وفاقی وزیر کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے پر آئین کے ارٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق کیا جائے۔ آئین کا یہ آرٹیکل کسی بھی رکن پارلیمان کو نااہل کرنے کے طریقے سے متعلق ہے۔
سپریم کورٹ نے سی ڈی اے حکام کی بھی سرزنش کی جنہوں نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کی طرف سے سی ڈی اے کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے پر ابھی تک اُنھیں نوٹس جاری نہیں کیا۔








