آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مشرف کو دل کا عارضہ، بیان لینے کے لیے کمیشن تشکیل
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کمیشن میں افراد کے ناموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
یہ کمیشن بیرون ملک جاکر ملزم کا بیان ریکارڈ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یاور علی کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کی تو ملزم کے وکیل نے عدالت میں اپنے موکل کی میڈیکل رپورٹ پیش کی جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی میڈیکل رپورٹ دو ماہ پرانی ہے۔
بینچ کے سربراہ نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں جس پر سابق فوجی صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو کینسر کا مرض تو لاحق نہیں ہےالبتہ اُنھیں دل کی تکلیف ہے۔
بینچ کے سربراہ نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ ان کے موکل وطن تو واپس نہیں آرہے تو اس صورت حال میں وہ اپنا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیوں نہیں کرواتے جس پر سابق آرمی چیف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل عدالت میں آ کر اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں لیکن ان کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ سفر کرسکیں۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ کہ وہ ان کے موکل ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کو تیار نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ ملزم پرویز مشرف کو بارہا عدالت میں پیش ہونے کے مواقع فراہم کیے گئے لیکن اُنھوں نے اس کا فائدہ نہیں اُٹھایا۔
جسٹس یاور علی کا کہنا تھا کہ ملزم پرویز مشرف جو اس مقدمے میں اشتہاری ہیں نہ تو عدالت میں پیش ہو رہے ہیں اور نہ ہی وہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروارہے ہیں۔ بینچ کے سربراہ نے دیگر دو ججز کے ساتھ مشاورت کے بعد ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے سے متعلق عدالتی کمیشن بنانے کا حکم دیا۔
سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والے خصوصی بینچ میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طاہرہ صفدر بھی شامل ہیں۔
بینچ کے سربراہ جسٹس یاور علی چند دنوں کے بعد ریٹائرڈ ہو جائیں گے جس کے بعد سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کی سماعت کرنے کا بینچ ٹوٹ جائے گا۔ اس مقدمے کی سماعت 14 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔
چیف جسٹس ملزم کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیں گے اور امکان ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس طاہرہ صفدر کو نئے بینچ کی سربراہی دی جائے گی۔
سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی پہلی خصوصی عدالت کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس فیصل عرب نے کی تھی تاہم انھیں سپریم کورٹ کا جج بنانے کے بعد جسٹس یاور علی کو خصوصی بینچ کی سربراہی سونپی گئی تھی۔