MeToo# پاکستان کب پہنچے گا؟

می ٹو (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہSpencer Platt

دنیا بھر اور پھر انڈیا میں کئی خواتین کی طرف سے سوشل میڈیا پر کچھ جانے پہچانے مردوں پر انہیں جنسی طور ہراساں کرنے کے الزامات کے بعد اب MeToo# پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی نظر آنے لگا ہے۔

انڈیا میں پچھلے کچھ عرصے سے درجنوں کی تعداد میں خواتین نے سوشل میڈیا پر کئی نمایاں شخصیات پر اس طرح کے الزام لگائے ہیں، جن میں سیاست دان، صحافی، اداکار، ہدایت کار اور کمیڈینز شامل ہیں۔

جنوبی ایشیا میں جنسی ہراس کے بارے میں مزید پڑھیے

اس تازہ لہر کی شروعات تب ہوئی جب بالی وڈ اداکارہ تنوشری دتا نے ایک انٹرویو میں اداکار نانا پاٹیکر پر الزام لگایا کہ انہوں نے دس سال پہلے ایک فلم کے سیٹ پر انہیں ہراساں کیا تھا۔ اس کے بعد ٹوئیٹر پر ایک خاتون نے ایک سٹینڈ اپ کامیڈین پر انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا، جس کے بعد انڈین ٹویٹر پر ایک کے بعد ایک اسی طرح کے ٹویٹس سامنے آنے لگے۔

تنوشری دتا

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

MeToo# پاکستان تک پہنچنے میں اتنی دیر کیوں؟

حال ہی میں کئی خواتین نے پاکستانی ٹوئیٹر پر بھی اپنے تجربات شئیر کرتے ہوئے کچھ نمایاں شخصیات پر انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔

کیا پاکستان میں بھی یہ مسئلہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا بظاہر انڈیا میں نظر آرہا ہے، اور اگر ہاں تو پھر اب تک پاکستانی خواتین کھل کر سامنے کیوں نہیں آ رہیں؟

صحافی صباحت ذکریہ کہتی ہیں کہ ’پاکستان کی معیشت اتنی چھوٹی ہے اور یہاں مواقع اتنے محدود ہیں کہ کئی بار سامنے آکر کسی پر الزام لگانا کئی بار اقتصادی طور پر خود کو تباہ کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں اقتدار بہت تھوڑے سے لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب ایک دوسرے سے کسی نہ کسی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر ایک عورت کسی کا نام لے کر اس پر الزام لگاتی ہے تو اس شخص کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہاں اس عورت کی زندگی نہایت کی مشکل ضرور ہو جاتی ہے۔‘

’یعنی اس طرح کا الزام لگانے کے لیے یا تو آپ خود بہت طاقتور ہوں، یا پھر کچھ خواتین اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر سامنے آتی ہیں۔ لیکن اس پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔‘

قیمت خواتین کو ہی کیوں چکانا پڑتی ہے؟

می ٹو احتجاج (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہJUNG HAWON

انڈیا اور پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس طرح کا الزام لگانے والی خواتین کو ہمدردی کی جگہ معاشرے سے نفرت اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صباحت ذکریہ کہتی ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کے الزامات کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے، اور اگر کچھ خواتین سکرین شاٹس وغیرہ کی صورت میں شواہد پیش بھی کرتی ہیں تب بھی ان پر یقین نہیں کیا جاتا۔

’لیکن میں پھر بھی پرامید ہوں۔ کوئی بھی تحریک ایک دم ہی کامیاب نہیں ہوتی، نتائج سامنے آنے میں وقت لگتا ہے۔ اب کم سے کم اس بارے میں بات ہو رہی ہے۔ خواتین ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں، زیادہ پراعتماد ہیں اور مرد حضرات کو اس بارے میں سوچنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔‘

خواتین کی ہمت کیسے بندھے؟

میشا شفیع

،تصویر کا ذریعہMichael Loccisano

ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ بڑے بڑے ناموں پر الزامات لگنے کے باوجود ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ خواتین کی باتوں پر یقین کیا جائے یا پھر انہیں کسی طرح کا انصاف ملے۔

صحافی بینظیر شاہ کہتی ہیں کہ ’جب گلوکارہ میشا شفیع نے ٹوئیٹر پر ہی علی ظفر پر الزام لگایا، تو کئی دوسری خواتین بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ پھر قانونی کارروائی بھی شروع ہوئی۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو اس کیس میں بھی کچھ نہیں ہوا۔ علی ظفر کے کام پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ ان کی برینڈز کے ساتھ وابستگی برقرار رہیئ ان کی فلم ریلیز ہوئی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’کسی حد تک اس میں میڈیا ہاؤسز نے بھی کردار ادا کیا جو ان کی فلم اس وقت پروموٹ کر رہے تھے۔ اور اس کے بعد میشا بھی خاموش ہو گئیں اور دوسری خواتین بھی۔ جب اس طرح کے نمایاں کیں میں ایسا ہوتا ہے تو اس سے آپ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ خواتین تو لگتا ہے کہ اگر میشا شفیع جیسی پراعتماد اور کامیاب خاتوں کچھ نہیں کر سکتیں تو ان کے سامنے آنے سے کیا ہوگا۔‘

بینظیر شاہ کہتی ہیں کہ جب تک خواتین کو اقتدار میں حصہ نہیں دیا جائے گا، جب تک انہیں ایسے رولز میں جگہ نہیں ملے گی جہاں وہ فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو سکیں تب تک کسی بھی طرح کی بامعنی تحریک کا کامیاب ہونا مشکل ہے۔ ’ہماری حکومت میں کتنی خواتین ہیں؟ ہماری عدلیہ میں کتنی؟ اب تک خواتین کے حقوق کے لیے جتنے نئے قوانین بنے ہیں وہ اس وجہ سے بنیں ہیں کہ خواتین نے وہ مسئلے اٹھائے اور ان پر کام کیا۔ اگر قانون سازی اور فیصلے سازی میں خواتین کو حصہ دار ہی نہ بنایا جائے تو پھر تبدیلی کیسے آئے گی؟‘