ڈالر پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح پر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی حکومت کی جانب سے گذشتہ روز عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ لینے کے فیصلے کے بعد منگل کی صبح ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 138 روپے تک پہنچ گیا لیکن پھر قدرے کم ہونے کے بعد 133 پر آکر رک گیا۔
انٹربینک مارکیٹ میں دن کے آغاز سے ہی روپے کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی اور ڈالر کی قدر پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح 138 روپے تک جا پہنچی۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز مارکیٹ کے اختتام تک انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 124 روپے 30 پیسے تھی۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
کرنسی ڈیلرز کے مطابق روپے کی قدر میں یہ اچانک کمی حکومت کے فیصلے کے ردعمل میں دکھائی دیتی ہے جس کے تحت وہ آئی ایم ایف کے پاس قرضے کے لیے جارہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ رواں سال یہ پانچواں موقع ہے جب روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ ملک کو درپیش معاشی بحران کے حل کے لیے حکومت نے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیر خزانہ کے نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقتصادی ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی منظوری دی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انہوں نے کہا تھا کہ ہر جانے والی حکومت نئی حکومت کے لیے معاشی بحران چھوڑ کر جاتی ہے لیکن ہم ہر نئی حکومت کے آنے پر معاشی بدحالی کا تسلسل توڑنا چاہتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے فیصلے اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اسی بارے میں گفتگو چلتی رہی اور 'ڈالر' اور 'آئی ایم ایف نہیں جاؤں گی' کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے۔
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی غلطی کی وجہ سے سرمایہ داروں کی پاکستان کی معشیت پر سے اعتماد اٹھ گیا۔
انھوں نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ 'آئی ایم ایف کے پاس جانا صرف پرانی حکومت میں غلط تھا لیکن اس حکومت میں ایسا کرنا ٹھیک ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
دوسری جانب ماہر اقتصادیات حارث گزدر نے ٹویٹ میں حکومت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ آئی ایم ایف جانا عمران خان کی غلطی نہیں ہے بلکہ کوئی بھی عقلمند تـجزیہ کاریہ کہہ سکتا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر تبصرہ کرتے ہوئے صارف حفصہ بینظیر جیلانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جب اس حکومت کے آنے کے بعد اب ڈالر کی قیمت گری تھی تو انھوں نے فوراً اس کا ذمہ اپنے سر لیا لیکن جب اب ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہے تو اس کا الزام سابق حکومت پر ڈال رہے ہیں اور سمجھ نہیں آ رہا اس کھیل میں ٹام کون ہے اور جیری کون ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
ایک صارف نے گیزیٹ آف پاکستان کا 1950 کا صفحہ ٹویٹ کیا جس میں اس وقت پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں کی قدر درج تھی جس کے مطابق ڈالر اس وقت تین روپے کے برابر تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر ہونے والے تبصروں کو دیکھتے ہوئے ایک صارف نے کہا کہ مجھے تف ہے ان لوگوں پر جن کو اقتصادیات کی سمجھ ہے نہیں لیکن تبصرہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
صارف مہوش مولوی نے البتہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کو موقع دینے کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے شاید کچھ جذباتی بیانات ضرور دیے ہوں لیکن ان کو کچھ موقع ضرور دینا چاہیے کیونکہ معاشی مسائل دہائیوں پرانے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6










