جب عمران خان نے شہباز شریف کو ’منڈیلا‘ بنتے دیکھا

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی اتوار کو کی جانے والی پریس کانفرس کا ذکر رات گئے پاکستانی میڈیا پر ہوتا رہا اور پیر کو بھی پاکستانی سوشل میڈیا پر اسی کا چرچا ہے۔
ٹوئٹرپر #PMIKPressConference سب سے اوپر ٹرینڈ کر رہا ہے اور تحریکِ انصاف کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے وزیراعظم کے بیانات پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
عمران خان نے اپنی اس پریس کانفرنس میں مختلف موضوعات پر بات کی جن میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتاری بھی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کرپشن میں ملوث افراد سے کوئی این آر او نہیں ہو گا اور وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن شہبازشریف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے، یہ سیاسی انتقام کس طرح ہوسکتا ہے جبکہ شہباز شریف پر یہ مقدمات دس ماہ پرانے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
عمران خان نے کہا کہ ’کل میں نے شہباز شریف کو نیلسن منڈیلا بنتے دیکھا، شہباز شریف کے ساتھ ہمدردی کرنے والوں کے نام بھی آئیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب ایک کرپشن پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو ساری کرپشن یونین ایک ہو جاتی ہے، تحریک انصاف کے خلاف ن لیگ اور پی پی والے بھائی بھائی ہوگئے ہیں۔‘
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’کان کھول کر سن لیں کوئی این آر او نہیں ہوگا اور عوام بے فکر ہوجائیں ہم کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے۔‘
اس پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید گجر کا کہنا تھا کہ 'یہ پاکستان کے لیے ایک افسوس ناک دن ہے، وزیراعظم کرکٹ کو غربت اور کرپشن جیسے سنجیدہ مسائل کے ساتھ جوڑ رہے ہیں اور انھیں تاحال معلوم نہیں کہ ان کے مستقبل کے کیا منصوبے ہیں۔ وہ ابھی تک کنٹینر کے دور میں رہ رہے ہیں۔'
تاہم متعدد صارفین نے عمران خان کی کرپشن کے خاتمے کے لیے کیے گئے اعلانات کو سراہا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
محسن بلال خان نے کہا کہ 'عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنی پریس کانفرنس ایک بار پھر کرپشن کے خاتمے کا عہد کیا ہے۔ کرپشن کے خلاف جنگ حقیقی ہے۔'
وزیراعظم عمران خان نے اس پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی بھی کھل کر حمایت کی اور کہا کہ عثمان بزدار کا انتخاب ہی وہ تبدیلی ہے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ عثمان بزدار کو کچھ وقت دیا جانا چاہیے اور وہ یقیناً خود کو پنجاب کا سب سے کامیاب وزیراعلیٰ ثابت کر دیں گے۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر صارف عبدالرحیم نے کہا کہ 'میری ناقص رائے میں یہ پریس کانفرنس اسمبلی ممبران اور حکومتی افسران کے لیے پیغام تھا کہ اسٹیبلشمنٹ بزدار کے پیچھے کھڑی ہے۔ جو کوئی بغاوت کرنے کی سوچ میں تھا، اسے ڈرایا گیا ہے۔ شہباز کی گرفتاری بھی اسی کی کڑی تھی۔'











