ڈی جی آئی ایس آئی نوید مختار کی مدت ملازمت مکمل، خفیہ ادارے کا نیا سربراہ کون ہوگا؟

،تصویر کا ذریعہ ISPR
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے اہم ترین خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلی جنس ایجنسی یعنی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار سمیت پانچ لیفٹیننٹ جنرلز رواں ماہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔
اس اہم ادارے کا نیا سربراہ کون ہوگا، اس کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔
پیر کو فوجی ہیڈ کوارٹرز میں کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ان سمیت پانچ لیفٹیننٹ جنرلز کو الوداع کہا جا رہا ہے۔
ان افسران کی ریٹائرمنٹ سے خالی ہونے والے عہدوں پر نئی تعیناتیوں کے لیے گذشتہ ہفتے ہی فوج کے چھ میجر جنرلز کو ترقی دی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض عہدوں پر تعیناتیوں کے بعد اس وقت فوج میں چار آسامیاں خالی ہیں۔ جن میں انسپکٹر جنرل آرمز، چیف آف لاجسٹکس سٹاف، ملٹری سیکرٹری اور ڈی جی آئی ایس آئی شامل ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان سے گذشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سبکدوش ہونے والی ڈی جی آئی ایس آئی نے ملاقات کی تھی جس میں ادارے کے نئے سربراہ کی تقرری سے متعلق تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کے لیے زیر غور لیفٹیننٹ جنرلز میں ندیم زکی منج، عاصم منیر، وسیم اشرف، عبدالعزیز اور محمد عدنان شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ ISPR
’زیر غور نام‘
فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر موجودہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) ہیں اور اس سے پہلے انھوں نے سیاچن میں ڈویژن کمانڈ کی ہے۔ وہ آپریشنل ایریا میں بریگیڈ کی کمان سنبھال چکے ہیں۔
عاصم منیر پاکستان ملٹری اکیڈمی یعنی پی ایم اے کے فارغ التحصیل نہیں بلکہ انھوں نے آفیسرز ٹریننگ سکول سے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔
پی ایم اے کے 75ویں لانگ کورس کے لیفٹیننٹ جنرل ندیم زکی منج کا تعلق فوج کی آرمرڈ کور سے ہے، وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں ملٹری انٹیلی ایجنس کے سربراہ رہے ہیں۔ انھوں نے بلوچستان میں ایک ڈویژن، جبکہ آپریشنل علاقوں میں بریگیڈ کمانڈ کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ ISPR
تیسرا نام لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف کا ہے جو اس وقت آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا کے عہدے پر تعینات ہیں۔
وسیم اشرف آئی ایس آئی میں بھی تعینات رہے ہیں۔ وہ 76ویں لونگ کورس سے پاس آؤٹ ہوئے اور ان کا تعلق فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے ہے۔ ان کے بھائی لیفٹیننٹ جنرل نعیم اشرف اس وقت کور کمانڈر ملتان تعینات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ ISPR
لیفٹیننٹ جنرل عبدالعزیز کا تعلق آرٹلری سے ہے اور اس وقت آئی ایس آئی میں تعینات ہیں۔ ستمبر 2013 میں جب ان کے پاس بریگیڈ کی کمان تھی، وہ اس حملے میں بال بال بچے جس میں میجر جنرل ثنااللہ ہلاک ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہ ISPR
76ویں ونگ کورس کے ہی لیفٹیننٹ جنرل محمد عدنان نے اپنے کورس میں اعزازی شمشیر حاصل کی، وہ سابق صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری رہے جبکہ سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے اسسٹنٹ ملٹری سیکرٹری بھی رہے۔ تاہم وہ کیرئیر کے دوران اب تک فوجی انٹیلی جنس میں کسی بھی عہدے پر تعینات نہیں رہے۔
اب تک صرف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی وہ واحد فوجی سربراہ ہیں جنھوں نے آئی ایس آئی کی کمان بھی کی ہو۔
واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری وزیر عظم کی صوابدید ہے اور ادارہ بھی قانون کے تحت وزیر اعظم کے ماتحت ہے۔ اس طرح ڈی جی آئی ایس آئی وزیر اعظم اور فوجی سربراہ دونوں کو ہی جوابدہ ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ ISPR
تجزیہ کار اس معاملے پر وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کو اہم سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے پہلے عام طور پر اس اہم عہدے پر تعیناتی کا فیصلہ فوج خود کرتی تھی اور مجوزہ نام کی سمری پر وزیر اعظم دستخط کرتے تھے۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے دورِ حکومت میں دو بار فوجی سربراہ کا انتخاب کریں گے۔ موجودہ آرمی چیف 2019 میں ریٹائر ہوں گے جبکہ ان کی جگہ آنے والے فوجی سربراہ 2022 میں ریٹائر ہوں گے۔
سبکدوش ہونے والے سربراہ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو موجودہ آرمی چیف نے عہدہ سنبھالنے کے بعد 2016 میں خفیہ ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا تھا جبکہ اس سے پہلے وہ کور کمانڈر کراچی تعینات تھے اور تقریباً پونے دو سال اس منصب پر فائز رہے۔
فوج سے ریٹائر ہونے والے پانچ لیفٹیننٹ جنرلز میں جنرل ہلال جو کہ آرمی کی سٹریٹیجک فورسز کمانڈ کر رہے تھے، جنرل غیور محمود ملٹری سیکرٹری، جنرل ہدایت الرحمان آئی جی ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن، نذیر بٹ کور کمانڈر پشاور جبکہ جنرل نوید مختار ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔








