پشاور: رشتہ دارخاتون کا جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر اداکارہ منیبہ شاہ گرفتار

،تصویر کا ذریعہMuniba Shah
پشاور میں عدالت نے رشتہ دار خاتون کا جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا کر اس پر تصاویر اپ لوڈ کرنے کی ملزمہ پشتو فلموں کی اداکارہ منیبہ شاہ کو 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
29 سالہ مینبہ شاہ کو ایف آئی نے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے جمعے کو عدالت میں پیش کیا تھا۔
ان کی گرفتاری ایک خاتون شہری کی درخواست پر ہونے والی تحقیقات کے بعد عمل میں آئی۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ کسی نامعلوم شخص نے فیس بک پر ان کے نام سے فیک یا جعلی آئی ڈی بنائی ہے جس پر ان کی اور ان کے رشتہ داروں کی تصویریں اپ لوڈ کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر تو درخواست میں کسی فرد کو نامزد نہیں کیا گیا تھا لیکن تحقیقات سے پتہ چلا کہ سوشل میڈیا پر خاتون کا جعلی اکاؤنٹ پشتو فلموں اور ڈراموں کی اداکارہ منیبہ شاہ استعمال کر رہی تھیں اور حکام کے بقول اداکارہ نے اب اس کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اور تفتیش کے دوران ایک موبائل فون نمبر سامنے آیا جس کی جانچ پڑتال سے ایک فرد کی نشاندہی ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مذید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ جعلی آئی ڈی منیبہ شاہ نامی خاتون نے بنائی ہے اور وہی اسے استعمال کر رہی ہیں جس پر ایف آئی کے اہلکاروں متعلقہ مقام پر چھاپہ مارا اور جس وائی فائی کنکشن سے یہ آئی ڈی استعمال ہو رہی تھی اور وہاں سے اداکارہ منیبہ شاہ کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ منیبہ شاہ نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے ہی یہ آئی ڈی بنائی ہے اور وہی اسے استعمال کر رہی ہیں۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ منیبہ شاہ اور شکایت کنندہ خاتون کی قریبی رشتہ داری ہے اور ناراضگی کی وجہ سے مذکورہ خاتون کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
منیبہ شاہ گذشتہ آٹھ سالوں سے پشتو ڈراموں اور فلموں میں کام کر رہی ہیں۔ فیس بک پر ان کے اپنے نام سے بھی چار سے پانچ آئی ڈیز ہیں جن میں ان کے ویڈیو پیغامات اور رقص کی ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی ہیں۔
منیبہ شاہ کو سائبر کرائم ایکٹ کی جن شقوں کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ان کے تحت انھیں زیادہ سے زیادہ پانچ برس قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں سائبر کرائم کے قوانین گذشتہ دورِ حکومت میں ستمبر 2016 میں نافذ ہوئے تھے اور ان پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کہ انھیں اظہارِ آزادی رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔









