ریڈیو پاکستان کی عمارت کو لیز پر دینے کا حکومتی فیصلہ: ’پچاس ارب کی پراپرٹی پر مندر تو نہیں بنا سکتے‘

پی سی بی
،تصویر کا کیپشناحتجاج کرنے والے ملازمین کنٹریکٹ کی تجدید نہ کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں واقع پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی نشریات معمول کے مطابق جاری ہیں، لیکن سات منزلہ عمارت کے سینکڑوں ملازمین عمارت سے نکل کر سڑکوں پر احتجاج بھی کر رہے ہیں۔

ان کا یہ احتجاج حکومت کے اس ممکنہ فیصلے کو روکنے کے لیے ہے جس کے تحت وہ ادارے کی عمارت لیز پر دے دینا چاہتی ہے۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ’قومی اتحاد پیدا کرنے والے ادارے کو اس جگہ پر پہنچا دیا گیا ہے کہ آج ہم وزیراعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔۔۔ یہ اقدام ریڈیو ملازمین کے معاشی قتل کے مترادف ہے، اگر ہمارے خلاف پرچہ کٹتا ہے تو کٹ جائے۔۔۔ کیا چند کمروں کی اکیڈمی میں ریڈیو منتقل ہو سکتا ہے؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے سمجھا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت محکموں میں اچھی پالیسیاں لے کر آئے گی لیکن پالیسیاں نظر نہیں آ رہیں، اداروں کی تباہ کاری کا منصوبہ نظر آ رہا ہے۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے 21 اگست کو ملک کے سرکاری ریڈیو اور ٹی وی کو اداریاتی آزادی دینے کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ تین ماہ تک بڑے اور فوری فیصلے کرنے کا اشارہ دیا تھا۔

پھر دونوں اداروں کی اکیڈمیوں کو اکٹھا کر کے میڈیا یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی بات بھی کی۔ لیکن شاید اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پی بی سی کی عمارت کو لیز پر دینا اس جانب پہلا قدم ہو گا۔

مزید پڑھیے

17 ستمبر کو وزارت اطلاعات کے ڈائریکٹر دانیال گیلانی نے پی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل شفقت جیلانی کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ 'شاید ریڈیو پاکستان ہیڈکوارٹرز کو طویل مدت کے لیے لیز پر دے دیا جائے اور پی بی سی کو ایچ نائن میں واقع اکیڈمی میں شفٹ کرنے کے لیے ایک پرپوزل تیار کیا جائے۔'

اس اطلاع کے فقط دو روز بعد ہی ایک اور نوٹس ادارے کے حکام کو موصول ہوا جس کا عنوان تھا، ’شفٹنگ آف ریڈیو ہیڈ کوارٹرز۔‘

PBC

،تصویر کا ذریعہPBC

ڈائریکٹر برائے نیوز, پروگرامنگ اور انجینیئرنگ سے کہا گیا ہے کہ وہ 25 ستمبر تک اس بارے میں اپنی رائے دیں۔

انتظامیہ کی جانب سے وزارت اطلاعات کے حکام کو اپنی رپورٹ منگل کے روز دینی ہے، لیکن ادارے کے تمام ملازمین پیر کو ہی احتجاج کے بعد دھرنے کا پیغام بھی دیتے نظر آئے۔

سعودی عرب سے واپسی پر وزیر اطلاعات سے پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ ایسا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ یہ دکان تو نہیں جسے شفٹ کر دیا جائے؟ تو جواب ملا کہ ’میڈیا یونیورسٹی کو چلانے کے لیے ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے۔۔۔۔ فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے۔۔۔۔‘

پی بی سی
،تصویر کا کیپشنپی بی سی کی موجودہ سات منزلہ عمارت میں شعبہ انجینیئرنگ، پروگرامنگ، ایڈمن، پی آر، فنانس اور ہیڈ کوارٹر ایڈمن کے دفاتر ہیں

پیر کو وزیر اطلاعات نے ریڈیو ملازمین سے ملاقات کی اور انھیں تسلی دی کہ وہ لیز کے معاملے میں ملازمین کی راۓ کو ملحوظ خاطر رکھیں گے۔ تاہم یونین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ وزیر اطلاعات نے یقین دہانی کروائی کہ اگر ’آپ کے ڈایریکٹر صاحبان سے جو رپورٹ ہم نے مانگی ہے اگر وہ اس بلڈنگ کو شفٹ کرنے کا نہیں کہتے تو ہم اسے رکوانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

یونین نے واضح کیا ہے کہ احتجاج ابھی ختم نہیں ہوا۔

لیکن پیر ہی کی رات نجی ٹی وی چینل سے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات کا موقف تھا کہ 'مشینری اٹھا کر لے کر جانے کوئی تکنیکی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ شفٹ کرنے پر اگر آپ کہتے ہیں کہ اربوں روپے لگیں گے تو یہ منطق میری سمجھ میں نہیں آتی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ پچاس ارب کی پراپرٹی ضائع ہو دہی ہے۔۔۔ یہ تو نہیں ہے کہ ہم مندر بنا دیں اور یہ جا کر اسے پوجنا شروع کر دیں۔'

pcb
،تصویر کا کیپشنریڈیو کی سات منزلہ عمارت کے سامان اور عملے کو پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈمی کی ایک منزلہ عمارت میں منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے

ریڈیو پاکستان کے شعبہ نیوز اینڈ کرنٹ افئیرز سے وابستہ سینئر افراد ہوں یا انٹرٹینمنٹ اور شعبہ انجنیئرنگ سے وابستہ افراد، اکثریت کی نظر میں یہ تجویز 'قابل عمل نہیں'، 'ممکن نہیں' یا 'بچگانہ بات لگتی ہے'۔

بی بی سی سے گفتگو میں شعبۂ انجینیئرنگ سے وابستہ علی ضیا عباسی نے بتایا کہ ’یہاں 20 سٹوڈیوز ہیں جن میں ہم مختلف زبانوں میں پروگرام تیار کرتے ہیں۔ جہاں یہ ہمیں بھیجنا چاہتے ہیں وہاں تو 20 کمرے بھی نہیں ہیں۔۔۔‘

’ایک ایک سٹوڈیو جو ہم نے یہاں بنایا، اس پر کروڑوں کی لاگت آتی ہے۔ زیادہ تر سٹوڈیوز جاپان اور دیگر ممالک کی مدد سے بنائے، ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے اور اس طرح کے سٹوڈیوز تو (اکیڈمی میں) بنائے ہی نہیں جا سکتے۔ یہاں ایک ہزار بندہ کام کرتا ہے۔‘

لیکن اعلیٰ انتظامیہ میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ حتمی پالیسی تو حکومت ہی کی چلے گی۔

پی بی سی
،تصویر کا کیپشن’سٹوڈیوز کو کہیں شفٹ کرنے میں کم ازکم چھ ماہ لگتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وزیراطلاعات کو غلط بریفنگ دی گئی ہے‘

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اعلیٰ عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ابھی تو یہ صرف ایک تجویز ہے۔ یہ ایک لمبا عمل ہے۔ ظاہر ہے ورکرز میں تشویش پائی جاتی ہے اور اس کے بارے میں حکام کو آگاہ کیا جائے گا۔‘

یہاں سے شفٹ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو یہ درحقیقت کتنا وقت درکار ہو گا اور اگر یہ اتنا ہی ناممکن ہے تو وزیر اطلاعات نے ایسا فیصلہ کیسے کر لیا؟

ضیا عباسی کہتے ہیں کہ ’کسی بھی سٹوڈیو کو شفٹ کرنے میں کم ازکم چھ ماہ لگتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وزیراطلاعات کو غلط بریفنگ دی گئی ہے۔‘

مظاہرین وزیر اطلاعات کی جانب سے پریس کانفرنس میں دی گئی معلومات پر بھی تنقید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنا ہوم ورک نہیں کیا۔

پی بی سی

،تصویر کا ذریعہSOPHIA

،تصویر کا کیپشنحالیہ برسوں میں ریڈیو پاکستان کے بہت سے سٹوڈیوز کو نئے سرے سے بنایا گیا

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’ریڈیو پاکستان 1940 اور 1950 میں بنا تھا اس وقت ٹرانسمیٹر بہت بڑے بڑے تھے، اب ٹیکنالوجی آگے چلی گئی ہے۔۔۔ ایف ایم تو دس مرلے میں لگ جاتا ہے۔۔۔ ریڈیو کی زمین 275 کنال جگہ ہے اور ریلوے کی 70 ہزار ایکڑ جگہ ہے، یہ زمین ڈیڈ پراپرٹیز ہیں اور وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں انھیں استعمال میں لایا جائے۔ اس کو بیچ نہیں رہے۔۔۔'

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریڈیو کی موجودہ عمارت میں 1974 میں کام کا آغاز ہوا تھا۔

ادارے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جاپان کی حکومت نے 15 ارب کا خرچہ کیا ہے اور ٹرانسمیٹرز اور سٹوڈیوز دونوں کو وقت کے ساتھ ساتھ اپ گریڈ کیا جاتا رہا ہے۔

12 سال سے ریڈیو پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی سعدیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اگر یہ پیسہ بچانا چاہتے ہیں تو شفٹنگ کے لیے جو سرمایہ درکار ہے وہ کہاں سے آئے گا؟‘