عمران خان: پاکستان مسلم دنیا میں لگی لڑائیوں کی آگ کو مفاہمت کے ذریعے بجھانا چاہتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کے دورے پر گئے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جو بھی اقتدار میں آئے گا، وہ پہلے سعودی عرب جائے گا۔
العریبیہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے سعودی عرب کی حمایت جاری رکھنا کا اعادہ کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سعودی عرب اور پاکستان کے عوام کا ایک دوسرے سے تعلق ہے۔ سعودی عرب نے ماضی میں اس وقت پاکستان کی مدد کی جب پاکستان کو اس کی ضرورت تھی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہماری حمایت سعودی عرب کے ساتھ ہے لیکن ساتھ ساتھ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ مسلم دنیا میں کہیں بھی کوئی تنازع یا لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ پہلے ہے لیبیا، صومالیہ، شام، افغانستان، میں لڑائیاں جاری ہیں۔ پاکستان نے بھی بہت مشکلات دیکھی ہیں۔‘
پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’مسلم دنیا میں لڑائیاں ہم سب کو کمزور کر رہی ہیں۔ پاکستان ان لڑائیوں کی آگ کو کو مفاہمت کے ذریعہ بجھانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔‘
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'پاکستان کو 'فلاحی ریاست' بنانے میں بھرپور مدد کریں گے'
اس سے پہلے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے دورے کے دوسرے روز سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کیں۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو اسلامی اصولوں پر فلاحی ریاست بنانے کے لیے جس قدر ہو سکے گا نئی حکومت کی معاونت کرے گا۔
پاکستانی حکام کے مطابق سعودی حکومت نے وزیراعظم کو پاکستان میں پرامن طور پر جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پر مبارک باد دی۔

،تصویر کا ذریعہPM OFFICE
سعودی حکام نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ملک کو سماجی اور معاشی طور پر اسلامی اصولوں کے مطابق فلاحی ریاست بنانے کے خواب کی تعریف کی اوریقین دہانی کروائی کہ سعودی لیڈر شپ اس کے لیے پاکستان کی جس حد تک ہو سکے گا مدد کرے گی۔
دو طرفہ ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات پر بات چیت بھی کی گئی۔
اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد حسین،مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر خان ھشام بن صدیق بھی موجود تھے۔
وزیراعظم کی سعودی فرمانروا کے محل میں آمد کے موقع پر انکو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
وزیراعظم گذشتہ روز دورے کے پہلے مرحلے میں مدینہ پہنچے تھے۔
سعودی عرب کی معاشی پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سے بڑی تعداد میں پاکستانی وطن واپس منتقل ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPM OFFICE
وزیراعظم عمران خان نے جدہ میں قیام کے دوران سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ارکان سے خطاب بھی کیا۔
انھوں نے کہا ہے کہ اوورسیز وزارت اس انداز میں تشکیل دی جائے گی کہ یہ صحیح معنوں میں پاکستانیوں، سرمایہ کاروں اور سرمایہ کاری کی خدمت کرسکے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے۔
اس سے قبل مدینہ منورہ پہنچنے پر گورنرشہزادہ فیصل بن سلمان اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر خان ہشام بن صدیق، سعودی حکام اور قونصلیٹ کے افسران نے ان کا استقبال کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
مدینہ کے گورنر اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جبکہ بعد میں جدہ پہنچنے پر مکہ کے گورنر عبداللہ بن بندر نے ان کا استقبال کیا۔
اس سے قبل سعودی وزیر اطلاعات نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب پاکستان کی معاشی و اقتصادی سطح پر مشکل صورتحال کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب سعودی عرب یمن میں جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وزیراعظم کے بیرونی دورے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وہ اس وقت متحدہ عرب امارات گئے۔
خیال رہے کہ وزیر اطلاعات چوہدری فواد نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ہی واضح طور پر کہا تھا کہ بغیر کسی اہم ضرورت کے وزیراعظم تین ماہ سے قبل کوئی بیرونی دورہ نہیں کریں گے اور نہ ہی خصوصی جہاز استعمال کریں گے۔










