سپریم کورٹ: ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کی تضحیک کی جاتی ہے

خواجہ سرا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسماعت کے دوران عدالت نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان دو خواجہ سراؤں کو کس شعبے میں نوکریاں دی جائیں گی

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خواجہ سراؤں سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو خواجہ سراؤں کو سپریم کورٹ میں ملازمتیں دینے کے بارے میں سوچ بچار کی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد خواجہ سراؤں کو قومی دھارے میں لانا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان دو خواجہ سراؤں کو کس شعبے میں نوکریاں دی جائیں گی اور قابلیت کے معیار کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے!

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سر براہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے خواجہ سراﺅں کے حقوق سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کی تضحیک کی جاتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک بھر اور بالخصوص خیبرپختونخوا میں نہ صرف خواجہ سراؤں کی تذلیل کی جاتی ہے بلکہ انھیں جان لیوا دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے واقعات بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔

سپریم کورٹ پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کون سی این جی او ہے جو پیج بناکر بدنام کررہی ہے جس پر عدالت نے اس این جی او کے مالک نسیم قمر کو نوٹس جاری کر دیا ہے

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں دو خواجہ سراؤں کو قتل بھی کیا جاچکا ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت خواجہ سراؤں کی حفاظت اور ان کو درپیش مسائل کا حل چاہتی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا تمام درخواست گزاروں کے شناختی کارڈ جاری ہو گئے ہیں؟ جس پر نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے چیئرمین نے عدالت کو بتایا کہ 342 خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ جاری کر رہے ہیں جبکہ دیگر خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے لیے بھی کام جاری ہے۔

بینچ کے سربراہ نے نادرا کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں محض کارروائیاں نہیں ہونی چاہییں۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ایک غیر سرکاری تنظیم نے خواجہ سراؤں کے خلاف ایک مہم چلا رکھی ہے جہاں پر اُن کی تذلیل کی جاتی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ عمل قابل قبول نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کون سی این جی او ہے جو پیج بناکر بدنام کررہی ہے جس پر عدالت نے اس این جی او کے مالک نسیم قمر کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق عدالت نے سندھ، خیبرپختونخوا اور وفاق سے سفارشات دو ہفتے میں طلب کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔