فیاض الحسن چوہان: ’اداکارہ نرگس کے بارے میں لفظ نکل گیا جس پر میں ان سے معافی مانگتا ہوں'

    • مصنف, شیراز حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اداکارہ نرگس سے معذرت طلب کی ہے۔ ویڈیو پیغام میں فیاض الحسن چوہان نے کہ 'ایک ثقافتی شو میں مجھ سے تھیٹر کے حوالے سے سوال کیا گیا جس پر جواب دیتے ہوئے اداکارہ نرگس کے بارے میں ایک لفظ نکل گیا جس پر میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اداکارہ نرگس فن کی دنیا ایک روشن ستارہ ہیں اور ملک کی فلم انڈسٹری میں ان ایک اہم مقام ہے۔' اس کے علاوہ انھوں نے نجی ٹی وی چینلز کوہ نور اور رائل نیوز سے بھی معذرت کی ہے۔

دوسری جانب پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر نعیم حنیف نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں فیاض الحسن چوہان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے انھیں عہدہ وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

نعیم حنیف کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر نے میڈیا کے نمائندوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی ہے جس پر تاحال انھوں نے معذرت نہیں کی ہے۔

فیاض الحسن چوہان اس وقت سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنے جب انھیں پنجاب میں اطلاعات و ثقافت کا قلمدان سونپا گیا۔

فیاض الحسن چوہان گذشتہ کئی برسوں سے ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں مختلف موضوعات پر 'ببانگ' تبصرے کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنے مخالفین کو کئی طرح کے القابات دینے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں جیسا کہ 'خلائی کھوتا' یا 'مونچھوں والا بندر' وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں!

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اطلاعات کے ساتھ ساتھ ثقافت کی ذمہ داری بھی فیاض الحسن چوہان کو سونپی گئی ہے۔ وہ یہ ذمہ داری کس طرح نبھائیں گے اور مستقبل میں ثقافت کے فروغ کے لیے ان کی کیا حکمت عملی ہوگی، اس کی ایک جھلک ایک تقریب میں فیاض الحسن چوہان نے پیش کی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ 'پنجاب کے کسی سنیما گھر کے باہر اگر فحش بورڈ لگا تو پہلے اس پر جرمانہ ہوگا اور اگر پھر بھی ایسا کیا گیا تو وہ سنیما گھر بند کر دیا جائے گا۔'

اسی تقریر میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اداکارہ ’نرگس کو حاجی نرگس نہ بناتا تو پھر آپ کہتے۔‘

فیاض الحسن چوہان کا ماضی میں جماعت اسلامی پاکستان سے تعلق رہا ہے تاہم بعد میں انھوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ سنہ 2018 کے انتخابات میں انھوں نے راولپنڈی کے حلقہ پی پی 17 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

فیاض الحسن چوہان سوشل میڈیا پر بھی خاصے سرگرم ہیں اور انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا کا انھوں نے پھرپور استعمال کیا تھا۔

فیاض الحسن چوہان کے صوبائی وزیر نامزد کیے جانے کے بعد سب سے پہلے جو پہلو موضوع بحث بنا وہ ان کے ٹوئٹر پر ان کے اکاؤنٹ پر تعارف تھا، جس میں انھوں نے حضرت عمر فاروق اور اڈولف ہٹلر کو اپنا پسندیدہ حکمران قرار دیا تھا۔ صوبائی وزیر کا حلف اٹھانے کے بعد فیاض الحسن چوہان نے اپنے تعارف میں سے اڈولف ہٹلر کا نام حذف کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ کوئی انسانیت ہے کہ نیم برہنہ عورتوں کی تصاویر پرنٹ آؤٹ کر کے باہر لگا دی جائیں۔'

اس پر ایک صارف شمع جونیجو کا کہنا تھا کہ یہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے 'طالبانائزئشن' نافذ کرنے کا پہلا مظاہرہ ہے اور وہ اس کی مذمت کرتی ہیں۔

ان کی ایک اور ویڈیو بھی منظرعام پر آئی ہے جس میں وہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار ممتاز حسین قادری کے مزار پر حاضری دے رہے ہیں جبکہ نجی ٹی وی کے ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد لیک ہونے والی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیربحث ہے۔

فیاض الحسن چوہان نے نجی ٹی وی کے پروگرام کے بعد لیک ہونے والی ویڈیو میں نازیبا زبان کے استعمال پر معذرت کی ہے۔

ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ 'آف دی کیمرہ کلپ چلانا صحافت کی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ پورے پروگرام میں تحمل کے ساتھ انتہائی منفی سوالات کے جواب دیےپروگرام ختم ھونے کے بعد آف کیمرہ میرے متعلق کلپ چلایا گیا۔ لیکن اس کے باوجود میں اپنے آف کیمرہ رویے پر معذرت خواہ ہوں۔'

پی ٹی آئی کے ہی ایک حامی احمد نے فیاض الحسن چوہان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'بھائی فیاض صاحب لفظوں کو تولیں اور پھر بولیں۔ تاکہ لگے کہ حکومت بول رہی ہے کوئی سٹیج پر کامیڈی نہیں۔'

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ فیاض الحسن چوہان کو تحمل اور ٹھنڈے مزاج سے کام لینا ہوگا۔