تحریک لبیک کا لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ جاری، ’سفیر کی ملک بدری تک مذاکرات نہیں‘

پیغمبر اسلام کے خاکوں کے مقابلے کروانے کے اعلان کے خلاف تحریک لبیک کے سربراہ نے کہا ہے کہ مذاکرات جب تک نیدرلینڈز کے سفیر کی ملک بدری کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوتا مذاکرات نہیں کریں گے۔

تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کی قیادت میں لانگ مارچ پنجاب کے شہر دینا پہنچ گئی ہے۔

نامہ نگار نے بتایا حکام نے دریائے جہلم پر کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر تحریک لبیک پاکستان کی لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی تھی تاہم لانگ مارچ کے شرکا نے رکاوٹیں دریائے جہمل میں پھینک دیں اور اپنا سفر جاری رکھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کے لیے مذاکرات کے لیے وفاقی حکومت نے تین رکنگ ٹیم تشکیل دی ہے جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری شامل ہیں۔

شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری مذاکرات کے لیے گجر خان پہہنچ گئے ہیں جبکہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ وفاقی حکومت کی مذاکراتی ٹیم گجر خان پہنچ گئی ہے لیکن مولانا خادم حسین رضوی نے کہا ہے کہ ’حکومت کے ساتھ مذاکرات صرف اس وقت ہوں گے جب پاکستان میں تعینات نیدرلینڈز کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفیر کو واپس بلانے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے۔

اس سے قبل صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت خادم حسین رضوی سے مذاکرات کے لیے پہنچے تو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ نے ان سے مذاکرات کرنے سے انکار یہ کہہ کر کر دیا کہ ’آپ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے‘۔

بدھ کو تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پیغمبر اسلام کے خاکوں کے مقابلوں کے اعلان کے خلاف لاہور سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ شروع کیا تھا جس کی قیادت تحریک کے قائد علامہ خادم حسین رضوی کر رہے ہیں۔

جہلم کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے مظاہرین کی قیادت سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اطلاعات کے مطابق اس تحریک کے سربراہ خادم حسین رضوی نے ان افسران سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

خادم حسین رضوی کے ایک ترجمان عثمان جلالی نے بی بی سی کو بتایا کہ قیادت کے حکم پر کارکنوں نے دریائے جہلم کے دونوں پلوں کو کنٹینرز کھڑے کرکے بند کر دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جب تک خادم حسین رضوی کوئی حکم جاری نہیں کریں گے اس وقت تک اس پل سے دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر خادم حسین رضوی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کی گئی ویڈیو میں تحریک لیبک کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیدر لینڈز کے سفیر کی معطلی تو ’سستا‘ مطالبہ ہے۔ ’

’ہم نے حکومت پاکستان سے بہت ہی سستا مطالبہ کیا ہے کہ سفیر کو یہاں سے نکال دو۔ یہ تو کوئی مطالبہ ہی نہیں ہے۔ مطالبہ تو ہمارا یہ ہے کہ اعلانِ جنگ کرو ان کے ساتھ۔‘

واضح رہے کہ 29 اگست کی شام لاہور سے ایک کنٹینر اور گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا۔

تحریکِ لبیک پاکستان کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی کے مطابق ان کا کارواں بدھ کی رات گجرات کے قریب پڑاؤ کرے گا اور جمعرات کی صبح اسلام آباد کی جانب سفر کا آغاز کیا جائے گا۔

اس سے قبل تحریک لبیک کے قافلے کو اعلان کردہ وقت پر لاہور سے نکلنے میں تاخیر ہوئی اور اس کی وجہ حکومت کی جانب سے تحریکِ لبیک کے ساتھ مذاکرات کی کوشش تھی۔

ایک حکومتی وفد نے بدھ کو لاہور میں تحریکِ لبیک پاکستان کے رہنماؤں سے مذاکرات میں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا اور انھیں مارچ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

خیال رہے کہ گدشتہ برس تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان نے راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر توہینِ رسالت کے معاملے پر ایک طویل دھرنا دیا تھا جس سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے تھے۔