آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’گیرٹ وائلڈرز پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا شخص گرفتار‘
نیدرلینڈز میں انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان اور پیغمبر اسلام کے خاکوں کا مقابلہ کروانے کا اعلان کرنے والے گیرٹ وائلڈرز پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کے شبہہ میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ بندی مبینہ طور پر گیرٹ وائلڈرز کی جانب سے پیغمبر اسلام کے خاکوں کا مقابلہ کروانے کے اعلان کے جواب میں کی گئی تھی۔
اس مشتبہ شخص کی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے اور انھیں ہیگ میں سینٹرل ٹرین سٹیشن سے حراست میں لیا گیا جو کہ پارلیمان کی عمارت سے صرف پانچ منٹ کی پیدل مسافت پر ہے۔
ہیگ میں بی بی سی کی نمائندہ اینا ہالیگن کے مطابق پولیس اہلکاروں کو فیس بک پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو سے اس بارے میں معلوم ہوا جس میں ایک 26 سالہ نوجوان گیرٹ وائلڈرز کے ساتھ ساتھ ڈچ پارلیمان کی اس عمارت پر حملہ کرنے کا کہہ رہا تھا جہاں خاکوں کا یہ مقابلہ ہونا ہے۔
ڈچ وزیر اعظم مارک رتتے نے آزادی اظہار رائے کے قانون کا دفاع تو کیا لیکن خاکوں کے اس مقابلے کو ’بے ادب‘ اور ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پیغمبر اسلام کے خاکوں کے ان مقابلوں کے خلاف آج یعنی 29 اگست کو لاہور سے اسلام آباد کی طرف ایک احتجاجی مارچ بھی کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جماعت کی جانب سے ان مقابلوں کو روکنے یا نیدرلینڈز کے ساتھ تمام تر سفارتی تعلقات ختم کرنے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی اس معاملے کو او آئی سی اور اقوام متحدہ میں اٹھانے کا کہہ چکے ہیں۔
گذشتہ پیر کو سینیٹ میں اس حوالے سے ایک مذمتی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ میں اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ میں یہ معاملہ اٹھانے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس نازک معاملے پر مسلمانوں کی تنظیم او آئی سی متحرک ہو اور مضبوط اور مشترکہ طور پر دو ٹوک موقف اختیار کرے۔
جبکہ گذشتہ روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے جنرل سیکریٹری کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر غور کرنے کے لیے فوری طرر پر تنظیم کے مستقل رکن ملکوں کا اجلاس طلب کرنے کا کہا ہے۔