خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو کیا مشکلات ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس مرتبہ تحریک انصاف کو سادہ اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے کسی دوسری سیاسی جماعت کی مدد یا حمایت کی ضرورت نہیں رہی۔
تاہم صوبائی حکومت کو کچھ نئے اور پرانے چیلنجز کے ساتھ ساتھ اپنی ہی جماعت کے تمام ممبران کو خوش رکھنا اور ان کوایک ہی پیج پر اکھٹا رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اندرونی اختلافات
خیبر پختونخوا میں عام انتخابات سے قبل یہ تاثر عام تھا کہ شاید تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر صوبے میں اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی لیکن اسے بھاری اکثریت مل گی۔
تاہم پی ٹی آئی کی کامیابی کے ساتھ ہی پارٹی میں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے دوڑ دھوپ شروع ہو گئی اور کچھ ہی دنوں میں یہ واضح ہو گیا کہ کوئی پانچ امیدوار اس اہم انتظامی عہدے کے خواہش مند ہیں۔
لیکن پارٹی اس وقت واضح طورپر دو گروپوں میں بٹ گئی جب سابق وزیراعلیٰ پرویزخٹک اور سابق صوبائی وزیر عاطف خان اپنے اپنے گروپوں کی سربراہی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اطلاعات کے مطابق پارٹی سربراہ عمران خان کی خواہش تھی کہ عاطف خان کو یہ ذمہ داری سونپ دیں لیکن پرویز خٹک کی طرف سے مخالفت اور دباؤ کے باعث انہیں مجبوراً اس منصب کے لیے پارٹی کے ایک غیر معروف رہنما محمود خان کو نامزد کرنا پڑا جس کا پہلے اس فہرست میں نام ہی نہیں تھا۔
سینئیر تجزیہ نگار اور مصنف عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ پارٹی میں اندرونی اختلافات کے باعث عمران خان وزیراعلی کے نامزدگی پر ' بلیک میل' ہوئے اور انہوں نے وہ فیصلہ کردیا جسے میرٹ کے مطابق نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں شاید پی ٹی آئی کو اسمبلی کے اندر اتنی مشکلات نہیں ہوں گی جتنی اپنی پارٹی کے اندر سب کو خوش رکھنے میں پیش آ سکتی ہیں کیونکہ ہر کوئی وزرات اور عہدے کا امیدوار ہے اور ایسے میں نئے وزیراعلیٰ کے لیے ان سب کو خوش رکھنا ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔
گذشتہ اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے اندر ایک غیر اعلانیہ فارورڈ بلاک آخر تک موجود رہا جو وقتاً فوقتاً حکومت کو ٹف ٹائم دیتا رہا۔ تاہم پرویزخٹک پارلمیانی سیاست کے ایک گورو اور ماہر ہونے کی حیثیت سے ان مشکلات پر قابو پاتے رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ محمود خان کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ انہیں حکومت اور پارلیمانی سیاست کا کچھ زیادہ تجربہ حاصل نہیں جس کی وجہ سے انہیں حکومتی امور چلانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاید موجودہ وزیراعلیٰ کو ایک محدود مدت کے لیے لائے گئے ہیں اور اگر وہ عمران خان کی توقعات پر پورے نہیں اترتے تو انہیں تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔
فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام

،تصویر کا ذریعہAFP
خیبر پختوخوا اور مرکز میں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی ہے لہٰذا یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سابق قبائلی علاقوں کے تمام مسائل بغیر کسی روکاوٹ کے حل ہوں گے۔ لیکن ہر سال فاٹا کے پسماندہ علاقوں کے لیے وعدے کے مطابق سو ارب روپے کے فنڈر کا بندوبست کرنا شاید ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔
صوبے کے مالی معاملات پر گہری نظر رکھنے سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار اسمعیل خان کا کہنا ہے کہ فاٹا کا انضمام تو کر دیا گیا ہے لیکن صوبے کے پاس مالی وسائل نہیں ہیں اور ایسے میں ترقیاتی کاموں کےلیے اربوں روپے کا انتظام کرنا حکومت کےلیے بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا کے لیے فنڈر کی فراہمی کا مسئلہ عنقریب قومی مالیاتی کمیشن میں اٹھے گا جہاں تین صوبے بالخصوص سندھ لازمی اس کی مخالفت کرے گا کیونکہ وہ پہلے بھی اس مسئلے کو اٹھاتے رہے ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت میں قومی مالیاتی کمیشن کا ایوارڈ منظور ہوا تھا لیکن بد قسمتی سے حکومت اس پر عمل درآمد نہیں کرا سکی۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی تقسیم پر اکثراوقات صوبوں کے درمیان مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں۔
پشاور بی آر ٹی اور سوات موٹر وے منصوبے

پشاور میں جدید بس سروس بی آر ٹی منصوبہ تحریک انصاف کے سابق دور حکومت کے آخری چھ ماہ میں شروع کیا گیا تھا تاہم وعدے کے مطابق حکومت اس کو چھ ماہ میں مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ابتدا میں اس منصوبے کا تخمینہ 49 ارب روپے لگایا گیا تھا لیکن اس کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کی وجہ سے نہ صرف یہ پراجیکٹ غیر ضروری طوالت کا شکار ہوا بلکہ اس کا تخمینہ اب بڑھ کر تقریباً 70 ارب روپے کے قریب تک پہنچ گیا ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
اربوں روپے کے اس منصوبے میں تعمیراتی کمپنی کے انتخاب اور معیار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے حال ہی میں بی آر ٹی منصوبے کا ریکارڈ قبضے میں لے کر اس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ ایک دوسرا بڑا منصوبہ سوات موٹر وے بھی مقررہ وقت پر مکمل نہیں کیا جا سکا جس پر سابق صوبائی حکومت پر کڑی تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔
کیا صوبائی حکومت شفاف انداز میں یہ منصوبے مکمل کر سکے گی؟
سینئیر صحافی اسمعیل خان کے مطابق دونوں منصوبے یعنی بی آر ٹی اور سوات موٹر وے قرضہ لے کر بنائے جا رہے ہیں لہٰذا اس کے لیے رقم کا کوئی ایشو نہیں ہے۔
’البتہ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت پر دباؤ ضرور ہے کہ ان منصوبوں کو جلد از جلد پائیہ تکمیل تک پہنچائے کیونکہ پشاور شہر میں سڑکوں کی بندش اور ٹریفک میں روکاٹوں سے عوام پہلے ہی مشکلات کا شکار رہے ہیں۔‘
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نیب بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات ضرور کر رہی ہے لیکن وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کریں گے جس سے یہ بڑا پراجیکٹ کسی غیر ضروری تاخیر کا شکار ہو۔
نئی صوبائی حکومت کو مرکز کی جانب سے ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ سستے مکانات کی تعمیر میں سے کتنا حصہ ملے گا۔ یہ بھی صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوں گے۔












