امیر محمد خان جوگیزئی کو گورنر بلوچستان بنانے کی خبر میں صداقت نہیں: وزیراعظم ہاؤس

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امیر محمد خان جوگیزئی کو گورنر بلوچستان بنانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
اتور کو وزیراعظم ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ امیر محمد خان جوگیزئی کو گورنر بلوچستان کا عہدہ دیا جانا محض ایک تجویز تھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں تھا۔
بیان کے مطابق امیر محمد خان کے حوالے سے سامنے آنے والے بعض شواہد کی بنا پر اس تجویز پر مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ سنیچر کو یہ خبر آئی تھی کہ وزیراعظم پاکستان نے ڈاکٹر امیر محمد خان جوگیزئی کو صوبہ بلوچستان کے نئے گورنر کی حیثیت سے نامزد کیا ہے۔
قومی احتساب بیورو نے 2015 میں کڈنی سینٹر میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں نامزد گورنر کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
امیر محمد خان جوگیزئی کو بلوچستان کا گورنر نامزد کرنے کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ میں خبریں آئیں تھیں کہ انھوں نے نیب کی تحقیقات کی وجہ سے گورنر کے عہدے سے معذرت کر لی ہے تاہم اس کے کچھ دیر بعد انھوں نے مختلف ٹی وی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے اس کی تردید کی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امیر محمد خان جوگیزئی نے کہا کہ انھوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ گورنر کا عہدہ قبول نہیں کریں گے بلکہ کہا تھا کہ جب تک نیب سے کلیئرنس نہیں ملتی اس وقت تک عہدے کا حلف نہیں اٹھائیں گے۔
نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ڈاکٹر امیر محمد خان جوگیزئی بلوچستان کے سابق گورنر گل محمد خان جوگیزئی کے چھوٹے بھائی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر امیر محمد خان جوگیزئی کا تعلق بلوچستان کے ضلع لورالائی سے ہے اور وہ 1957ء میں پیدا ہوئے۔
ان کا تعلق بلوچستان میں پشتون کے معروف قبیلے کاکڑ کی جوگیزئی شاخ سے ہے۔ امیر محمد خان جوگیزئی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں۔
وہ چائلڈ اسپیشلسٹ ہیں اور سرکاری ملازمت کے دوران بلوچستان میں محکمہ صحت میں مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کوئٹہ میں چلڈرن ہسپتال سے وابستہ رہنے کے علاوہ کڈنی سینٹر کے سربراہ بھی رہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
قومی احتساب بیورو نے 2015 میں کڈنی سینٹر میں بدعنوانی کے ایک مقدمے ان کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دیا تھا ۔
نیب سے منسلک ایک سابق اہلکار نے بتایا کہ اس تحقیقات کا حکم سابق چیئرمین نیب قمر الزمان نے دیا تھا۔
اہلکار کے مطابق تحقیقات کا یہ حکم کڈنی سینٹر میں 6 کروڑ دس لاکھ روپے کی مبینہ بدعنوانی کی شکایت ملنے کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ بدعنوانی ہسپتال کے لیے مشینری سمیت دیگر خریداریوں میں کی گئی تھی۔
نیب کے سابق اہلکار کے مطابق اگرچہ وہ بدعنوانی کے اس کیس میں براہ راست ملوث نہیں لیکن چونکہ یہ خوردبرد اس وقت ہوئی جب وہ کڈنی سینٹر کے سربراہ تھے جس کے باعث ان کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا تھا۔











