تحریک انصاف کے امیدوار عثمان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب منتخب، حمزہ شہباز کو 27 ووٹوں سے شکست

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں آج اتوار کو صوبے کے نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار عثمان بزدار 186 ووٹ حاصل کر کے قائد ایوان منتخب ہو گئے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار حمزہ شہباز نے 159 ووٹ حاصل کیے۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر پرویز الہی کے زیر صدارت جاری ہے۔
قومی اسمبلی کی طرح پنجاب اسمبلی میں بھی قائد ایوان کی انتخاب خفیہ رائے شماری کی بجائے ایوان کی ڈویژن یا رائے شماری کی بنیاد ہوا جس میں اپنے اپنے امیدوار کی حمایت کرنے والے ارکان الگ الگ لابی میں گئے اور بعد میں ان کی گنتی کی گئی اور سپیکر نے تحریک انصاف کے امیدوار عثمان بزدار کی کامیابی کا اعلان کیا۔
سپیکر پرویز الہی نے جیسے ہی عثمان بزدار 186 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کرنے کا اعلان کیا تو حکمراں جماعت کے ارکان کی جانب سے ’آئی آئی پی ٹی آئی‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے اور اسی دوران سپیکر نے حمزہ شہباز کے 159 ووٹ حاصل کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب بڑے اور سیاسی اعتبار سے اہم صوبے میں مسلم لیگ نون کی 10 سالہ حکمرانی کے تسلسل کا خاتمہ ہوا اور صوبے کی قیادت پہلی بار تحریک انصاف کے ہاتھ میں آئی ہے۔
نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کامیابی کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ترجیح کرپشن کا خاتمہ اور پولیس کے نظام کو بہتر کرنا ہے اور سٹیٹس کو کو توڑ دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی طرز پر صوبہ پنجاب میں پولیس سمیت دیگر اداروں کو مضبوط کیا جائے گا اور اس کے ساتھ نہ صرف ایوان کا ہر رکن اپنے حلقے کا وزیراعلیٰ ہو گا بلکہ مقامی حکومتوں کو بھی موثر بنایا جائے گا۔
دوسری جانب جب مسلم لیگ نون کے رہنما حمزہ شہباز شریف نے ایوان میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بات کرنی شروع کی تو حکمران جماعت کے ارکان کی جانب سے شور مچایا گیا تو وہ احتجاجاً اپنی نشست پر بیٹھ گئے اور کچھ دیر بعد حمزہ شہباز نے دوبارہ تقریر شروع کی تو سرکاری ٹی وی نے ان کی تقریر کو نشر کرنا روک دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد دوبارہ ان کی تقریر نشر کرنا شروع کی لیکن جیسے ہی ان کا لہجہ سخت ہوتا تو نشریات کو دوبارہ روک دیا جاتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے سردار عثمان بزدار کو نامزد کیا تھا جبکہ مسلم لیگ نون کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز امیدوار تھے۔
مسلم لیگ نون نے قومی اسمبلی میں عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے پر احتجاج کیا تھا اور اتوار کو مسلم لیگ نون کے امیدوار حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اجلاس میں شرکت کرنے آئے تو میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے پارلیمانی کمیشن تشکیل نہ دینے کی صورت میں احتجاج کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کو 30 دن میں اپنا کام مکمل کرنا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آ جائے۔
اس سے پہلے سپیکر کے انتخاب میں کے لیے 349 ممبران نے ووٹ ڈالے جس میں سے پرویز الٰہی نے 201 ووٹ حاصل کر کے فتح حاصل کی جبکہ مسلم لیگ نواز کے امیدوار چوہدری اقبال گجر نے 147 ووٹ حاصل کیے اور ایک ووٹ مسترد ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے حزب اختلاف کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف اپوزیشن جمہوریت کی بات کرتی ہے تو دوسری جانب جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کی بات کرتی ہے۔
انھوں نے اپوزیشن ارکان کی جانب سے بطور احتجاج بازوں پر سیاہ پٹیاں پہننے پر کہا کہ احتجاج ان کا حق ہے چاہے وہ کالی پٹیاں پہنیں یا کالے سوٹ۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے ذرائع ابلاغ میں کئی نام گردش کر رہے تھے تاہم عمران خان نے خود اس عہدے کے لیے عثمان بزدار کو نامزد کیا۔
سرادار عثمان بزدار کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہIMRAN
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے والے عثمان احمد خان بزدار کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ سے ہے۔
انھوں نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 286 ڈیرہ غازی خان سے حالیہ عام انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور کامیاب ہو کر پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی میں پہنچے ہیں۔
عثمان بزدار تونسہ اور بلوچستان کے قبائلی علاقے میں آباد بزدار قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا خاندان کئی دہائیوں سے صوبہ پنجاب کی سیاست میں متحرک ہے اور مختلف ادوار میں کئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ منسلک رہ چکا ہے۔
ان کے والد سردار فتح محمد خان بزدار قبیلے کے سردار ہیں اور تین مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔
عثمان بزدار نے پہلی مرتبہ سنہ 2013 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا تھا، تاہم وہ کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔
حالیہ انتخابات میں انھوں نے اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا اور وہ لگ بھگ چھ ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے۔
اس سے قبل سردار عثمان خان بزدار بلدیات کی سطح پر تحصیل ناظم بھی رہ چکے ہیں۔











