’قیامت سے قیادت تک‘

،تصویر کا ذریعہPID
- مصنف, آمنہ مفتی
- عہدہ, مصنفہ و کالم نگار
آخر کار یار لوگوں نے تتو تھمبو کر کے کسی طرح عمران خان کو وزیرِ اعظم بنا ہی دیا۔ دل کی گہرائیوں سے مبارک باد۔ خاص طور پر نوجوان نسل کو یہ جیت مبارک ہو، جنھوں نے عمران خان کو اس لیلائے وطن کے لیے آخری امید سمجھا اور اپنے ووٹ کی طاقت سے ان کو کامیاب کیا۔
باقی رہ گئے جلنے والے۔۔۔ پچھلے دو روز میں ایسے ایسے واقعات رونما ہوئے اور ایسی ایسی گتھیاں سلجھیں کہ عقل دنگ رہ گئی۔ وہ لوگ جو بلاول زرداری کو نازیبا الفاظ سے پکارتے تھے ان کے منہ پہ زور کا طمانچہ زور سے ہی پڑا۔
شہدائے انتخابات کو سوائے بلاول کے کسی نے یاد نہ رکھا کیونکہ جمہوریت کے اس بوٹے کی آبیاری ان کے خاندان نے اپنے لہو سے کی ہے۔ باقی بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ بلاول کی تقریر نے اتنا تو ثابت کر دیا کہ اگر عمران خان، نئی نسل سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو ان کے بعد ہمارے پاس ایک سچ مچ کا سیانا، دانا اور اچھی تقریر کرنے والا لیڈر موجود ہے جو نوجوان بھی ہے اور سرد و گرم چشیدہ بوڑھوں کی سی بصیرت بھی رکھتا ہے۔
اسی بارے میں مزید پڑھیں!
تقریر سے یاد آ یا کہ عمران خان حلف اٹھانے کی تقریب کے دوران ایک عجیب ’فروئیڈین‘ سے دباؤ کا شکار نظر آئے۔ جن دو مقامات پہ وہ لڑکھڑائے وہ ایسے سادہ مقامات نہیں تھے کہ انھیں نظر انداز کر دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نفسیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد، جو سیاست میں بھی سدھ بدھ رکھتے ہیں اگر ان دونوں الفاظ پہ غور کریں تو شاید ’ فروئیڈین سلپ‘ کو رد کرنے والوں کو اپنے نظریات پہ نظرِ ثانی کرنا پڑے۔
معترضین کا منہ توڑنے کو جب ہم نے کہا کہ جناب! خان صاحب انگریزی میڈیم ہیں۔ اردو اور خاص کر اتنی ادق اردو کے الفاظ وہ کیسے پڑھتے تو جواب ملا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیرِ اعظم قومی زبان روانی سے نہیں پڑھ سکتے وہ تو خیر قبول ہے لیکن کیا انھوں نے ناظرہ قرآن بھی نہیں پڑھا؟ کیونکہ ’خاتم النبین‘ اور ’قیامت‘ کا لفظ تو قرآن میں بھی موجود ہے۔
چونکہ عمران خان بقول بلاول ’زندہ لاشوں‘، ’گدھوں‘، ’بھیڑ بکریوں‘ کے علاوہ دائیں بازو والوں کے بھی وزیراعظم ہیں، اس لیے ان کے اس جواب پہ ہم اپنا سا منہ لے کے رہ گئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پچھلے پانچ سال میں جناب ممنون حسین صاحب کے صدر بننے اور ’کونے میں بیٹھ کے دہی کھاتے رہنے‘ پہ کتنے ہی لطیفے بنے لیکن سنیچر کی اس تقریبِ حلف برداری نے ایک بار پھر اقبال کی یاد دلا دی ’نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں۔‘ اگر صدر صاحب کا شین قاف اتنا درست نہ ہوتا تو نئے وزیراعظم ’قیامت‘ کو ہمیشہ ’قیادت‘ ہی پڑھتے رہتے اور روزِ قیامت بھی اپنے اعمال کی فکر کرنے کی بجائے، ’قیادت‘ کے چکر ہی میں رہتے۔ صاحبو ! یہ چکر کسی گھن چکر سے کم نہیں۔
یوں تو ایک ایٹمی طاقت کے وزیراعظم کو کسی دو ٹکے کے صحافی کے مشوروں کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن ہم عادت سے مجبور ہیں۔ صدر ممنون ایک بے ضرر بزرگ ہیں۔ جہاں خاں صاحب نے ’الیکٹ ایبلز‘ ، ’آزاد امیدوار‘ اور دیگر ’خاکی انڈے‘ اضافی بوجھ کے طور پہ اٹھا رکھے ہیں، وہیں صدر کے عہدے سے فراغت کے بعد اگر ممنون صاحب کو وزیراعظم ہاؤس میں بطور اتالیق رکھ لیں توبہت بھلا ہو جائے گا ۔
خان صاحب ماشااللہ دنیا کے جمیل ترین وزرائے اعظم میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ان کا اپنی قومی زبان میں درست شین قاف سے نہ بولنا شاید ان کے چاہنے والوں کو بھی کھلتا ہو۔ رسول حمزہ توف نے لکھا ہے کہ اس کے علاقے میں یہ بات ایک بد دعا سمجھی جاتی ہے کہ بیٹا ماں کی زبان بھول جائے ۔
تفنن بر طرف، خان صاحب کا سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ وراثت میں ملنے والا پاکستان اتنے مسائل کا شکار ہے کہ خان صاحب سے بہت زیادہ امیدیں لگانا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہو گا۔ امید پہ دنیا قائم ہے۔ میں بھی یہ امید کرتی ہوں کہ محترم عمران خان بطور وزیر اعظم بھی ویسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کریں جیسی وہ ٹیم کے کپتان کے طور پہ کرتے آئے ہیں۔ ورنہ ’قیادت سے قیامت‘ اور ’تخت سے تختے‘ تک کا فاصلہ اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔
یہ بات خان صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے جو بہت سے تخت گرا کے اور کئی تاج اچھال کے یہاں تک پہنچے ہیں۔ تخت اچھالنا آسان ہیں لیکن بستی بستے بستے بستی ہے۔











