پی ٹی آئی کے اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی منتخب

قومی اسمبلی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے پارلیمان کے ایوان زیریں کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوا ہے جس کی صدارت سبکدوش ہونے والے سپیکر ایاز صادق نے کی

پاکستان کی 15ویں قومی اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے بدھ کو پاکستان تحریکِ انصاف کے اسد قیصر کو ایوان کا نیا سپیکر منتخب کر لیا ہے جبکہ قاسم سوری ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے ہیں۔

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار اسد قیصر نے سپیکر کے انتخاب کے لیے ڈالے جانے والے 330 ووٹوں میں سے 176 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔

ان کے مدمقابل امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ 146 ووٹ حاصل کر سکے جبکہ آٹھ ووٹ مسترد ہوئے۔

اسد قیصر کی کامیابی کے اعلان کے بعد حزبِ اختلاف کی نشستوں پر موجود مسلم لیگ (ن) کے اراکینِ اسمبلی نے نعرے بازی کی اور احتجاج کیا۔ اسی شور شرابے میں سبکدوش ہونے والے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اسد قیصر سے حلف لیا۔

اس صورتحال میں نئے سپیکر نے اجلاس 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔ اجلاس کے دوبارہ آغاز پر سپیکر اسد قیصر نے اپنی نشست سنبھالی اور اب ایوان میں ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

اسد قیصر اس سے قبل 2013 سے 2018 تک خیبر پختونخوا کے صوبائی اسمبلی کے سپیکر رہ چکے ہیں جبکہ ان کے مخالف امیدوار خورشید شاہ گذشتہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تھے۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے پارلیمان کے ایوان زیریں کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوا ہے جس کی صدارت سبکدوش ہونے والے سپیکر ایاز صادق نے کی۔

اجلاس کے آغاز پر ان ارکان نے حلف اٹھایا جو افتتاحی اجلاس میں موجود نہیں تھے یا الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے باعث 13 اگست کو حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔

asad

،تصویر کا ذریعہTanveer Shahzad

اس کے بعد سپیکر کا انتخاب کا آغاز ہوا۔ سپیکر ایاز صادق کی جانب سے انتخاب کے اعلان کے بعد ایوان پولنگ سٹیشن میں تبدیل کر دیا گیا اور ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔

ووٹنگ کے دوران کسی بھی رکن کو اپنے ووٹ کی تصویر کھینچنے کی اجازت نہیں تھی۔

یہ انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوا اور نو منتخب ارکانِ اسمبلی کے نام حروفِ تہجی کے حساب سے پکارے گئے جس کے بعد انھوں نے ووٹ ڈالا۔

اس موقع پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان،مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایوان میں موجود تھے تاہم آصف زرداری تاخیر سے ووٹ دینے کے لیے آئے۔

ڈپٹی سپیکر

ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کے قاسم سوری 183 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

ان کا مقابلہ اپوزیشن کے اسعد محمود کے ساتھ تھا۔ اسعد محمود کو 144 ووٹ ملے۔

سراج درانی، بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنآغا سراج درانی (دائیں) دوسری بار سپیکر منتخب کیے گئے ہیں

پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کے سپیکر کے عہدے کے امیدوار تو جانے پہچانے ہیں لیکن ڈپٹی سپیکر کے امیدوار زیادہ معروف نہیں۔

پی ٹی آئی کے امیدوار قاسم سوری قومی سیاست میں کوئی زیادہ جان پہچان نہیں رکھتے لیکن حالیہ عام انتخابات میں انھوں نے بلوچستان کی ایک معروف سیاسی شخصیت نوابزادہ لشکری رئیسانی کو شکست دی اور وہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی پہنچے ہیں۔

وہ تحریک انصاف سے کافی عرصے سے منسلک ہیں اور دو مرتبہ اس جماعت کے صوبائی صدر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 1992 میں بلوچستان یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے اسعد محمود متحدہ مجلس عمل اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیٹے ہیں۔

اسعد محمود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنے سیاسی جانشین کے طور پر ان کی تربیت کر رہے ہیں۔ عام تاثر ہے کہ اسعد محمود ہی جمیعت علما اسلام (ف) کا نیا چہرہ ہوں گے۔ اگرچہ وہ ابھی تک جماعت کی مجلس شوری کے رکن نہیں بنائے گئے لیکن وہ اپنے والد کے ساتھ اکثر اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔

مشتاق غنی
،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریکِ انصاف کے مشتاق غنی 81 ووٹ لے کر خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے ہیں

قومی اسمبلی کے علاوہ بدھ کو سندھ اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں بھی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوا ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ ِخان کے مطابق خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے والی پاکستان تحریکِ انصاف نے سپیکر کے لیے مشتاق غنی کو چنا جو 81 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ مشتاق غنی نے سپیکر کا حلف اٹھا لیا ہے جس کے بعد ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوا جس میں کامیابی تحریکِ انصاف کے ہی امیدوار محمود جان کا مقدر بنی جنھیں 78 ووٹ ملے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ اسمبلی میں آغا سراج درانی کو سپیکر منتخب کر لیا گیا ہے جبکہ ڈپٹی سپیکر کے منصب پر پاکستان پیپلز پارٹی کی ہی ریحانہ لغاری نے کامیابی حاصل کی ہے۔

آغا سراج درانی کا مقابلہ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار جاوید حنیف سے تھا اور وہ 96 ووٹ لے کر کامیاب قرار دیے گئے جبکہ جاوید حنیف نے 59 ووٹ حاصل کیے۔ آغا سراج درانی دوسری بار سپیکر منتخب کیے گئے ہیں۔ انھیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کے والد اور چچا دونوں ہی اس منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔

ڈپٹی سپیکر کے لیے ریحانہ لغاری 98 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائیں جبکہ ان کے مد مقابل متحدہ اپوزیشن کی رابعہ اظفر نے 59 ووٹ حاصل کیے۔ ریحانہ لغاری سندھ اسمبلی کے قیام سے لے کر چوتھی خاتون ڈپٹی سپیکر ہیں۔ اس سے قبل 1937 میں جیٹھی تلسی داس پہلی خاتون تھیں جو ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئی تھیں۔ اس کے بعد راحیلہ ٹوانہ اور بعد میں شہلا رضا اس منصب پر فائز رہیں۔