بلوچستان: اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کی ہے: جام کمال

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان میں وزراتِ اعلیٰ کے لیے نامزد امیدوار اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال نے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر اکثریت حاصل کرنے کے تاثر کو مسترد کیا ہے۔
عام انتخابات میں بلوچستان میں اکثریت لینے والی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کا قیام چند ماہ قبل مئی میں ہوا تھا۔
مختصر عرصے میں پارٹی کو سب سے زیادہ نشستیں ملنے پر حریف جماعتوں کا کہنا ہے کہ انتخابات سے جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے اتنی کامیابی ملی ہے۔
اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے
اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے جام کمال کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی انتخابات سے ایک ماہ قبل بنی۔
انھوں نے کہا کہ پارٹی کی عملی شکل اس سال سینٹ کے انتخابات کے موقع پر ابھر کر سامنے آئی لیکن پارٹی کے خدوخال پر کام گذشتہ ڈیڑھ دو سال ہورہا تھا اور اس سلسلے میں ہم آہنگی پیدا کی جارہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ان افراد سے مشاورت کی جا رہی تھی جو وفاقی یا صوبائی سطح کی جماعتوں سے نالاں تھے۔
انھوں نے استفسار کیا کہ لوگ کس بنیاد پر یہ بات کررہے ہیں کہ ان کی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی بنیاد پر اکثریت حاصل ہوئی۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ مخالفین اگر انتخابات کے نتائج کو مد نظر رکھ کر بات کر رہے ہیں تو یہ درست نہیں ہے کیونکہ ان انتخابات میں پارٹی کو صرف 15 نشستیں ملی تھیں اور چار آزاد اراکین کی حمایت کے بعد پارٹی کے اراکین کی تعداد 19 ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بعض دیگر جماعتیں جن میں متحدہ مجلس عمل اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) شامل ہیں، ان کو بھی بلوچستان سے زیادہ نشستیں ملی ہیں۔
وزارتِ اعلیٰ کے نامزد امیدوار جام کمال نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے انتخابات میں جیتنے والے لوگوں کی پوزیشن مضبوط تھی اور یہ لوگ آج نہیں بلکہ پہلے سے انتخابات جیتتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اسٹیمبلشمنٹ کی ایما پر نہیں بلکہ ایک نظریے کی بنیاد پر بنی جو یہ تھا کہ بلوچستان کے فیصلے بلوچستان میں ہوں۔
واضح رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی جن سیاستدانوں پر مشتمل ہے اُن کے خاندانوں کا تعلق قیام پاکستان سے لی کر بلوچستان عوامی پارٹی کے قیام تک زیادہ ترمسلم لیگ سے رہا لیکن انھوں نے نئی پارٹی کے قیام کے لیے ایسا نام اختیار کیا جو کہ قوم پرستی اور علاقہ پرستی کے قریب ہے۔
اس تناظر میں پوچھے جانے والے سوال کے حوالے سے جام کمال کا کہنا تھا کہ لوگ مسلم لیگ کے نام سے بیزار نہیں ہوئے بلکہ اس ذہنیت سے بیزار ہو گئے جس کے تحت لوگوں نے پارٹیوں کو اپنی ذاتی جاگیر بنایا اور ہم بھی اسی ذہنیت سے بیزار ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBALOCHISTAN ASSEMBLY
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ قومی دھارے کی جماعتوں میں رہے ان کو یہ تلخ تجربہ رہا کہ ان میں بلوچستان کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی جس کے باعث انھوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے جماعت کی داغ بیل ڈالی۔
جام صادق کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کا مقصد پاکستان کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانا ہے۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے اکثریت سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔
ایک اور سوال پر انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں پہلے سے زیادہ بہتری آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں انتخابات میں ٹرن آؤٹ بھی زیادہ رہا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ کے مطابق آج کے بلوچستان کے چیلنجز امن و امان کے حوالے سے بہت زیادہ نہیں بلکہ اچھی طرز حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ہیں۔










