گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں متعدد سکولوں پر شدت پسندوں کے حملے

،تصویر کا ذریعہQasim Shah
پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے حکام کے مطابق شدت پسندوں نے مختلف علاقوں میں سکولوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
ضلعی ترجمان دیامر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جمعرات کی شب شدت پسندوں نے ضلع کے بعض زیر تعمیر اور تکمیل کے قریب سکولوں کو نشانہ بنایا اور آگ لگا کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
گلگت بلتستان کی حکومت کے ترجمان شمس میر نے بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شدت پسندوں نے 12 سرکاری سکولوں کو نشانہ بنایا جن میں لڑکیوں کے سکول بھی شامل ہیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گلگت بلتستان کی حکومت کے ترجمان شمس میر نے کہا کہ ’ان میں سے تقریباً چار سکول لڑکیوں کے تھے جبکہ سات کے قریب سکولوں میں بچے سکول جاتے تھے جبکہ باقی سکول زیر تعمیر تھے اور مکمل ہونے والے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں سرکاری سکولوں کو نشانہ بنانے کا واقعہ اس سے پہلے علاقے میں کبھی نہیں ہوا ہے اور یہ ہمارے لیے بہت ہی عجیب اور افسوسناک ہے کیونکہ کچھ عرصے پہلے دیامر سمیت علاقے کے مختلف علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات پیش آئے تھے لیکن حالیہ کچھ برسوں میں یہ مکمل طور پر پرامن تھے۔
انھوں نے بتایا کہ جمعرات کی رات سے سکیورٹی ایجنسی نے مجرمان کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی تھی اور توقع ہے کہ جلد ہی اس کیس میں پیش رفت سامنے آئے گی۔
شمس میر نے کہا کہ سکولوں پر حملے کے خلاف گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاج بھی کیا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے حالیہ سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں شرح خواندگی ملک کے باقی حصوں کے مقابلے میں زیادہ تھی اور والدین کے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے کی رجحان میں اضافے کی وجہ سے نئے سکولوں کی تعمیر شروع کی گئی تھی۔
گلگت بلتستان کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ واقعے کی بعد کی صورتحال اور مجرمان کی تلاش کے حوالے سے ہونے والی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔
حکام کے مطابق پولیس کی مختلف چھاپہ مار ٹیمیں اس واقعے میں ملوث شرپسندوں کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں روانہ کی گئی ہیں۔
دیامر کی تحصیل چلاس کے پولیس افسر ایس پی رائے محمد اجمل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حملہ آور بظاہر مقامی ہی لگتے ہیں کیونکہ علاقے کے بعض حصوں میں اب بھی ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو تعلیم بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں اس سے پہلے 2003-4 میں سکولوں پر حملوں کے واقعات پیش آئے تھے لیکن بعد میں یہ سلسلہ رک گیا تھا تاہم اب اچانک یہ دوبارہ ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکولوں کی عمارتوں کو کافی نقصان پہنچا اور ان میں سے کئی کو بظاہر نذر آتش کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہQasim Shah
خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور نیم قبائلی علاقوں میں کچھ عرصہ قبل سرکاری سکولوں کو نشانہ بنانے کے واقعات عام تھے تاہم قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بعد ان واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ضلع دیامر کے علاقے چلاس میں اس سے پہلے شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ غیر ملکی سیاح بھی ہلاک ہوئے۔
اگست 2013 میں چلاس میں شدت پسندی کے ایک واقعے میں سپرانٹینڈنٹ پولیس، پاکستان فوج کے ایک کرنل سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اس واقعے سے دو ماہ پہلے جون میں دیامر کے علاقے میں دہشتگردوں نے نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔











