شکور شاد: بھٹو کا جیالا، بلاول کا باغی

،تصویر کا ذریعہShakoor Shad
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری میں اس کی شکست کی وجہ کیا بنی؟ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس اس کی وجہ دھاندلی ہے جبکہ تجزیہ نگاروں کی رائے منقسم ہے۔
تاہم بلاول بھٹو کو شکست دیکر لیاری کا قلعہ فتح کرنے والے شکور شاد کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت نہ ہوتی تو لیاری 2008 کے انتخابات میں ہی پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے شکور شاد نے دعویٰ کیا کہ لیاری میں گزشتہ دو انتخابات جبر کے ماحول میں ہوئے اور اس دوران لیاری میں جو کچھ ہوا یہ اس کا رد عمل تھا۔ اس عرصے میں لیاری کے رہنماؤں نے علاقے کو نظر انداز کیا اور یہاں صرف پاور پالیٹکس چل رہی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں میں احساس محرومی نے جنم لیا اور مسائل بھی بہت بڑھ گئے۔
لیاری میں 2018 کے انتخابات کے بارے میں مزید پڑھیے
' نوکریوں کی بندر بانٹ ہوئی یا فروخت کردی گئیں اور ترقیاتی منصوبے کے نام پر جو رقم مختص کی گئی تھی وہ بھی کہیں نظر نہیں آئی۔ یہ لوگوں کا رد عمل تھا اور خاص طور پر نوجوان نسل میں ایک بہت بڑی تبدیلی تھی۔ الیکشن کے دن تو پورا لیاری باہر نکل آیا، جہاں جہاں یہ کوشش کرتے تھے کہ مداخلت کریں وہاں دو تین سو ان کی مزاحمت کرتے تھے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام سے لیکر 2013 تک لیاری کا میدان ہمیشہ پی پی پی کے نام رہا لیکن 2018 کے انتخابات میں کسی ایک نشست پر بھی پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔
شکور شاد نے پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب جیتا جبکہ دو صوبائی نشستوں میں سے ایک پر جماعت اسلامی کے سید عبدالرشید نے کامیابی حاصل کی جبکہ دوسری نشست پر تحریک لبیک پاکستان کے یونس سومرو کامیاب ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہShakoor Shad
پی ایس ایف سے پی ٹی آئی کا سفر
شکور شاد زمانہ طالب علمی سے سیاست میں ہیں جس کا آغاز انھوں نے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب 1977 میں سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو برطرف کیا گیا تو انہوں نے پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن میں شمولیت اختیار کی اور یکم اکتوبر 1978 کو پہلی بار ان کے گھر پر چھاپہ پڑا۔
'ہم نے بھٹو کی جان بچانے کی تحریک میں ایک ریلی نکالی تھی اور عبداللہ ہارون سکول میں جاکر چھٹی کرادی۔ اس کے بعد جلوس لیکر وزیر مینشن گئے۔ چھاپے کے وقت میں گھر پر نہیں تھا۔ اہلکار میرے والد کو لیکر گئے اور بغدادی تھانے میں ہی میرے والد کو دل کا دورہ پڑا تھا۔'
شکور شاد خود کو ایاز سموں اور ناصر بلوچ کا ساتھی قرار دیتے ہیں۔ دونوں کو جنرل ضیاالحق مخالف تحریک کے دوران کراچی میں پھانسی دی گئی تھی۔
ناصر بلوچ پر پی آئی اے کے طیارے کی ہائی جیکنگ کا الزام عائد تھا اور ان کا تعلق الذولفقار تنظیم سے بتایا گیا تھا۔
شکور شاد کے مطابق ناصر بلوچ کو جب سزائے موت دی گئی تو اس کی میت وہ ہی جلوس کی صورت میں گھر لیکر گئے تھے۔ بینظیر بھٹو کے محافظ منور سہروردی کو وہ اپنا بڑا بھائی تسلیم کرتے ہیں جو کراچی میں ایک حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہShakoor shad
جیالے سے باغی
شکور شاد نے 1988 میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو صوبائی ٹکٹ کے لیے درخواست دی تھی لیکن اسے منظور نہیں کیا گیا جس کے بعد منور سہروردی کے کہنے پر انہوں نے ایف آئی اے میں بطور انسپکٹر ملازمت اختیار کرلی۔
حکومت کی برطرفی کے ساتھ ملازمت چلی گئی اور وہ سیاست کی طرف لوٹ آئے۔ 1993 میں دوبارہ ملازمت بحال ہوئی لیکن چند سالوں کے بعد انہوں نے ملازمت چھوڑ دی۔
شکور شاد کا اپنی قیادت سے پہلا اختلاف 2002 کے بلدیاتی انتخابات میں نامزدگیوں پر سامنے آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خبر ملی کہ لیاری کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر خرد برد ہو رہی ہے۔ اس الیکشن کے لیے انہوں نے ایک نوجوان کا نام تجویز کیا لیکن پارٹی قیادت نے اسے مسترد کرکے اپنے منظور نظر لوگوں کو نامزد کردیا۔
شکور شاد نے اختلاف کے ساتھ الیکشن لڑا اور ان کا امیدوار کامیاب ہوگیا۔
2008 کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کی تقسیم پر انھوں نے دوبارہ اختلاف کیا اور آزادانہ حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔
اس وقت ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے دومرتبہ قومی اسمبلی کے منتخب رکن واجہ کریم داد اور مقامی معروف شخصیت ماما یونس بلوچ ان کے ہمراہ تھے۔
شکور شاد کا کہنا ہے کہ 2008 میں بغاوت اس قدر تھی کہ 'اگر بی بی ( بینظیر بھٹو) شہید نہیں ہوتی تو ہم جیت جاتے۔'
'بی بی کی شہادت کے علاوہ ایک اور عنصر یہ سامنے آیا کہ لیاری کے نوجوانوں کے ہاتھ میں اسلحہ تھما دیا گیا اور بلوچ ایریا میں پولنگ سٹیشن پرقبضہ تھا صبح گیارہ بجے ہم نے بائیکاٹ کردیا تھا لیکن اس کے باوجود ساڑہ 9 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔'
انھوں نے مزید کہا: '2008 کے بعد جو دور رہا وہ ایک بڑی دردناک کہانی ہے۔ یہاں کی مختلف برادریوں کے درمیان تفرقہ ڈالا گیا۔ حالیہ انتخابات کے نتائج اس صورتحال کا بھی ردعمل ہیں۔ امن امان کا جو مسئلہ تھا لوگ اس کا ذمہ دار بھی پیپلز پارٹی کو ہی قرار دیتے تھے۔'
جیالے کے چیئرمین کو شکست

،تصویر کا ذریعہAFP
تحریک انصاف کی نظر پیپلز پارٹی کے اس باغی پر پڑی اور انہیں پارٹی میں شامل کرلیا گیا اور نتیجے میں جس شکور شاد نے پارٹی کے پہلے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف جیل کاٹی اور روپوشی اختیار کی، وہ موجودہ چیئرمین بلاول بھٹو کے مدمقابل آ کھڑے ہوئے۔
شکور شاد کا کہنا ہے کہ وہ بلاول بھٹو کے سامنے نہیں آئے بلکہ بلاول ان کے سامنے آئے۔
'بلاول بھٹو کے ساتھ پیپلز پارٹی والوں نے زیادتی کی۔ تحریک انصاف سے جب میری نامزدگی سامنے آئی تو پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کافی کنفیوژ تھی کیونکہ انھیں اندازہ تھا کہ لیاری میں کس قسم کا رد عمل سامنے آسکتا ہے۔انہوں نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے بلاول کو ڈھال بناکر استعمال کیا۔ بعض لوگ سمجھ رہے تھے کہ بلاول کامیاب ہونے کے بعد نشست خالی کردے گا اور اس پر وہ منتخب ہوجائیں گے۔'
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند مرتضیٰ بھٹو بھی لیاری سے شکست کھا چکے ہیں جب لوگوں نے ان کے بجائے بینظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہShakoor shad
شکور شاد کا کہنا ہے کہ اگر آصفہ بھٹو سامنے آتی تو شاید بلاول سے زیادہ مضبوط امیدوار ہوتیں کیونکہ ان کی شخیصت زیادہ پرکشش ہے اور وہ خاص طور پر خواتین میں زیادہ مقبول ہیں۔
لیاری اور گینگ وار
کراچی میں جمہوریت کی بحالی اور مزدوروں کے حقوق کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک میں لیاری کا حصہ رہا ہے لیکن 2008 کے بعد یہاں گینگ وار اور بعد میں آپریشنز نے اس علاقے کو شہر سے الگ کرکے رکھ دیا۔
شکور شاد کا کہنا ہے کہ 25 جولائی کے فیصلے نے گینگ وار کا لیبل واش کردیا ہے۔
'بعض اخبارات نے لیاری کو بدنام کیا ہے ورنہ لیاری اتنا پرامن علاقہ ہے آپ مہنگے سے مہنگے موبائل فون پر بیچ سڑک پر کھڑے ہوکر بات کرلیں کوئی نہیں چھیننے آئیگا جبکہ کراچی کے کئی علاقوں میں آپ ایسا نہیں کرسکتے۔'









