’وفاق اور پنجاب میں حکومت کے لیے نمبر پورے کر لیے ہیں`

عمران

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے مشاورت کے بعد وفاق اور صوبہ پنجاب میں حکومت قائم کرنے کے لیے مطلوبہ نمبر پورے کر لیے ہیں۔

فواد چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی کے ایوان زیریں میں مخصوص نشستوں کو ملا کر کل 342 نشستیں ہوتی ہیں جن میں سے 10 سیٹیں خالی ہو جائیں گی کیونکہ چند امیدواروں نے قومی اسمبلی کے انتخاب میں ایک سے زائد نشستوں سے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر انتخابات نہیں ہوئے تھے۔

پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ 328-330 کے ایوان میں ان کی جماعت کو 168 ممبران کی حمایت حاصل ہے۔

تفصیلات دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سات آزاد امیدواروں نے پی ٹی آئی کا حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ان کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کی چھ، پاکستان مسلم لیگ ق کی چار، بلوچستان عواپی پارٹی کی دو اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی دو سیٹیں شامل ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین کراچی روانہ ہو رہے ہیں تاکہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے نشستوں کے معاملے پر بات چیت کی جا سکے۔

قومی اسمبلی کی 14 نشستوں پر دوبارہ گنتی کا اعلان

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے بعد الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 24 نشستوں پر دوبارہ گنتی کرانے کا اعلان کیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی کی 14 اور صوبائی اسمبلی کی 10 نشستوں پر دوبارہ گنتی کرائی جائے گی۔

قومی اسمبلی کی 14 نشستیں جن پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ گنتی کا اعلان کیا ہے ان میں سے 13 پنجاب میں ہیں جبکہ صرف دو خیبر پختونخوا میں ہیں۔

دوبارہ گنتی والی نشستوں میں سے پانچ پر مسلم لیگ نواز کی فتح ہوئی ہے۔ انہی نشستوں میں سے این اے 129 لاہور 7 بھی ہے جس سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق جیتے ہیں۔

اس کے علاوہ 15 سیٹوں میں سے نو سیٹوں پر پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی ہوئی ہے۔

دوبارہ گنتی کیے جانے والے حلقوں میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا حلقہ این اے 57 راولپنڈی 1 بھی ہے۔

واضح رہے کہ ملک کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مضبوط اپوزیشن بنانے پر اتفاق کیا ہے اور حالیہ انتخابات کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ سیمت ہر فورم پر اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ 'لاڈلے (عمران خان) کو جتوانے کے لیے مختلف حلقے صرف پنکچر ہی نہیں کیے بلکہ پورے ٹائر ہی پھاڑے گئے ہیں۔'

اُنھوں نے کہا کہ صرف اُنھی حلقوں کو کھلوا لیں جہاں سے عمران خان جیتے ہیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی 116 سیٹیں ہیں جن میں سے عمران خان پانچ سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں جن میں سے چار نشستیں اُنھیں چھوڑنا پڑیں گی۔

اس کے علاوہ اس جماعت کے دیگر دو رہنما سرور خان اور میجر ریٹائرڈ طاہر صادق بھی دو دو نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی بھی قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے کامیاب قرار پائے ہیں۔

اس طرح پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 109 نشستیں ہیں۔

صوبائی اسمبلی کی نشستیں

الیکشن کیمشن نے صوبائی امسبلی کی 10 نشستوں پر دوبارہ گنتی کروانے کا اعلان کیا ہے۔ ان نشستوں میں پنجاب اسمبلی چھ، سندھ کی دو اور خیبر پختونخوا کی دو نشستیں ہیں۔