’ریٹائرنگ روم میں جج کی چہل قدمی‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سننے کے لیے احتساب عدالت کے احاطے میں پہنچے تو وہاں سکیورٹی اور عدالتی عملے سمیت سب کچھ موجود تھا اگر کمی تھی تو ملزمان اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے ان کارکنوں کی جو ہر سماعت پر احاطہ عدالت اور عدالت کے باہر جمع ہوتے تھے۔
کمرہ عدالت میں پہنچے تو نواز شریف کے وکلا نے فیصلے کو کچھ دنوں کے لیے موخر کرنے کے لیے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیے اور کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی، تو احتساب عدالت کے جج نے ان رپورٹس کو دیکھے بنا ہی محض وکیل کے دلائل پر سر ہلاتے رہے۔
ایون فیلڈ ریفرنس پر فیصلے کے بارے میں مزید پڑھیے
احتساب عدالت کے جج کا یہی رویہ استغاثہ کے لیے بھی تھا اور اُن کی طرف سے اس درخواست کی مخالفت میں جو دلائل دیے گئے اس کو بھی تحریر نہیں کیا گیا۔
آدھے گھنٹے بعد جب ملزمان کی طرف سے دائر کی گئی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا تو امید ہو چلی تھی کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ جلد آ جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ فیصلہ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے سنایا جائے گا۔ جب یہ وقت پورا ہوا تو جج صاحب خود کمرہ عدالت میں نہیں آئے بلکہ عدالتی عملے سے کہلوا دیا کہ فیصلہ دوپہر ڈھائی بجے سنایا جائے گا۔
اس کے بعد ڈھائی بجے بھی جج صاحب عدالت میں تشریف نہیں لائے اور عدالتی عملے نے کہا کہ فیصلہ آدھے گھنٹے بعد سنایا جائے گا۔ اس پر کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں نے بھارتی اداکار سنی دیول کی ایک فلم کے ڈائیلاگ میں تھوڑی سی تبدیلی کرتے ہوئے کہا: ’وقت پر وقت بڑھائے جا رہے ہیں لیکن فیصلہ نہیں سنایا جا رہا جج صاحب فیصلہ نہیں سنایا جا رہا۔‘
سنی ویول جو ایک فلم میں وکیل کا کردار ادا کرہے تھے ان کا ایک جج کے ساتھ مکالمہ تھا کہ ’جج صاحب اس مقدمے میں تاریخ پر تاریخ تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے لیکن فیصلہ نہیں دیا جا رہا۔‘
صحافیوں کی یہ گفتگو شاید احتساب عدالت کے جج نے سن لی اور جب مقررہ وقت قریب آن پہنچا اور عدالتی عملے نے کمرہ عدالت کو اندر سے کنڈی لگالی اور صحافیوں کو کمرہ عدالت میں جانے سے روک دیا۔
اس موقع پر صحافیوں نے دروازہ کھلوانے کے لیے احتساب عدالت کے جج کے حق میں نعرے لگائے اور جب اُنھیں اس میں کامیابی نہ ملی تو اُنھوں نے جج کے خلاف بھی نعرے لگوانے شروع کر دیے، جس پر عدالتی عملے نے صحافیوں کو ایسا کرنے سے منع کیا۔

احتساب عدالت کے جج فیصلہ سنانے سے پہلے کافی دیر تک اضطراب کی حالت میں اپنے ریٹائرنگ روم میں ٹہلتے رہے۔
پھر جج نے نیب کے وکیلوں اور ملزمان کے وکلا کو کمرہ عدالت میں بلوا کر اندر سے کنڈی لگا دی۔ صحافی جج کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے احاطہ عدالت سے باہر چلے گئے اور اس دوران جج نے موقع غنیمت جانتے ہوئے فیصلہ سنا ہی دیا۔
عام تاثر تو یہی تھا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہونے والا، لیکن سزا اتنی سخت ہوگی اس کی شاید کسی کو توقع نہیں ہوگی۔
احتساب عدالت کے جج نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جب احاطہ عدالت سے باہر نکلے تو اُن کے ساتھ سکیورٹی کی آٹھ گاڑیاں تھیں جبکہ عمومی طور پر اُن کے ساتھ سکیورٹی کی صرف ایک گاڑی ہوتی ہے۔
پولیس کو یقین تھا کہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر عدالتی فیصلہ سننے کے لیے ضرور عدالت آئیں گے اس لیے اُنھوں نے سزا ملنے پر مجرم کو اڈیالہ جیل چھوڑنے کے لیے ایک بکتر بند گاڑی کو احاطہ عدالت میں کھڑا کیا تھا تاہم یہ گاڑی خالی ہی واپس چلی گئی۔










