مشرف کی تاحیات نااہلی معطل،’سپریم کورٹ کا حکم بہت حد تک آئین سے ماورا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سابق وفاقی وزیر قانون اور آئینی ماہر ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اگلے ماہ ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا سپریم کورٹ کا حکم بہت حد تک آئین سے ماورا ہے۔
جمعے کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں سپریم کورٹ اور سوسائٹی کا ماحول بھی تبدیل ہو چکا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ مختلف مسائل کے حل کے لیے سپریم کورٹ مداخلت کرے اور سپریم کورٹ کی مداخلت کو اب لوگ کسی حد تک تسلیم بھی کر رہے ہیں کہ وہ اس طرح کے احکامات جاری کرے۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایس ایم ظفر میں وزیر قانون تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سوسائٹی میں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے عدالت عظمیٰ بھی اپنے اختیارت سے باہر جانے کی مجبوری ہو گئی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ سوسائٹی کا ماحول تبدیل کرنے میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور میڈیا کو قانونی معاملات کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے اور یہ معاملات عدالتوں میں ہی طے ہونے چاہیے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ سابق فوجی صدر کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کے معاملے پر حساس اداروں کا سپریم کورٹ پر کوئی دباو تو نہیں تھا، ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ خلائی مخلوق یاکسی ادارے کی پشت پناہی کا بغیر ثبوت فراہم کیے ذکر کرنا ملک کے بدنام کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے سابق فوجی صدر کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی ہو لیکن سپریم کورٹ کے اس اقدام سے وہ ماتحت عدالتیں متاثر نہیں ہوں گی جہاں پر پرویز مشرف کے خلاف مختلف مقدمات زیر سماعت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے جیسے سنگین مقدمات کے باوجود اُنھیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کے سوال پر ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ عدالت کی طرف سے ان مقدمات میں ملزم کی پاکستان میں جائیداد کی ضبطگی کا عمل اس لیے ہوتا ہے تاکہ وہ ملزم کو مجبور کرے کہ وہ اپنے خلاف دائر مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے مختلف عدالتوں میں پیش ہوں۔
ایس ایم ظفر جو نگراں وفاقی وزیر قانون علی ظفر کے والد بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ اگر مختلف عدالتوں نے ملزم پرویز مشرف کی جائیداد کی قرقی کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں تو یہ احکامات ملزم کے پیش ہونے کی صورت میں واپس بھی لیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان آنے کی صورت میں سابق فوجی صدر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ عدالتیں بھی ایسا کر سکتی ہیں لیکن یہ اختیار نگران وفاقی حکومت کے پاس بھی یہ اختیار ہے کہ وہ ملزم کا نام ای سی ایل میں شامل کر سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پاکستان کی عدالت عظمی نے سابق فوجی صدر کو 13 جون کو ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوں تو اُنھیں گرفتار نہ کیا جائے۔
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تجویز پر لاہور ہائی کورٹ کا جج تعینات ہونے والے پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اعلی عدلیہ کے ان ججز میں شامل ہیں جنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے پہلے پی سی او یعنی عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔












