مسلم لیگ ن کی حکومت کے وہ اہم مسائل جو آئندہ حکومت کے لیے چھوڑ دیے گئے

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے بعد ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے جس نے اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کر لی ہے۔

تاہم جاتے جاتے بہت سے اہم مسائل ہیں جن پر فیصلہ کرنے کی بجائے اس نے گیند 25 جولائی کو منتخب ہونے والی آئندہ حکومت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔

1۔ سابق صدر پرویز مشرف

مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکومت کے آخری دن جاتے جاتے اپنے ایک بڑے حریف سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف پر بھی ایک ایسا وار کرکے گئی ہے جسے ختم کرنا نئی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

وزارت داخلہ نے صدر مشرف کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیا ہے جس کی وجہ سے سابق فوجی سربراہ کو شدید معاشی اور سفری مشکلات درپیش آ سکتی ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

2۔ معاشی ’ابتری‘

ماہرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) حکومت ماضی کی پیپلز پارٹی حکومت کی طرح نگران اور نئی آنے والی حکومت کے لیے ’میکرو میس‘ یعنی بڑا مسئلہ چھوڑ کر جا رہی ہے۔ مالی سال 2018 کے پہلے نو ماہ میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا چار اشاریہ تین فیصد ہوگیا ہے جوکہ مسلم لیگ کی پانچ سالہ حکومت میں بدترین مانا جا رہا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی گزشتہ پانچ سال میں اپنی بدترین سطح پر بتایا جاتا ہے۔ اندرون ملک بنکوں سے لیے گئے قرضوں کی مالیت 481 ارب روپے جو کہ پانچ سال کے دوران کسی بھی سہ ماہی میں سب سے زیادہ ہے۔ مہنگائی کی شرح اعداوشمار کے اعتبار سے کم رہی لیکن اشیا خود نوش کی قلت کا سامنا اکثر رہا۔

مختلف مواقعوں اور تہواروں پر آلو، پیاز اور ٹماٹر کی نایاب ہو گئے۔ امریکی ڈالر کو اسحاق ڈار کے دور میں زبردستی سو روپے سے نیچے رکھا گیا جو جب اوپر جانا شروع ہوا تو اب 119 پر بھی نہیں رک رہا ہے۔ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر بھی پیپلز پارٹی دور کی طرح کوئی توانا نہیں چھوڑ کر گئی۔ سٹیٹ بنک کے مطابق اس کی جیب میں 10 ارب ڈالرز کے ذخائر موجود ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

3۔ پیٹرول کی قیمت

ماضی کی روایت کو پس پشت ڈال کر اس مرتبہ حکومت نے اپنے آخری دن ایندھن کی قیمتوں کا ماہانہ تعین ہر ماہ کی آخری تاریخ کو کرنے سے انکار کرتے ہوئے، یہ معاملہ بھی نگران حکومت کے حوالے کر دیا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اس مرتبہ توقع تھی کہ ان قیمتوں میں قابل ذکر اضافہ متوقع تھا اور شاید اسی وجہ سے جاتہ جاتے اس نے ’پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بم‘ گرانے سے اجتناب کیا۔

4۔ فاٹا انتخابات/ گلگت بلتستان اصلاحات

قبائلی علاقوں کا صوبہ خیبر پختونخوا میں کاغذات کی حد تک انضمام ہو گیا۔ لیکن اسے عملی جامع پہنانا ابھی باقی ہے۔ یہی سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ قبائلیوں کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ لیکن سب سے بڑا چیلنج ایک نئی صوبائی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی 21 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

25 جولائی کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی صوبائی حکومت کی صحت پر ان نئے اکیس اراکین کا کیا اثر ہوگا؟

اسی طرح اپنے آخری دنوں میں متنازعہ اصلاحات گلگت بلتستان میں بھی متعارف کروائی گئی ہیں۔ جس پر ایک تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ نئی حکومت اس پر کیا موقف اختیار کرے گی؟

اس بارے میں مزید پڑھیے

5۔ اداروں کے درمیان کھچاؤ، ٹُرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی آخر دن تک ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ کی شکایت کرتے رہے لیکن اس کے خاتمے کے کوئی عملی اقدام دیکھنے کو نہیں ملے۔

ہاں ان کے نو ماہ میں قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس معمول سے زیادہ اور باقاعدگی سے ہوتے رہے۔ اپنے رہنما اور سابق وزیراعظم کے مطالبے پر ٹُرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن (یعنی حقائق اور مفاہمتی کمیشن) کی قیام کی بھی حمایت کی لیکن کمیشن قائم نہیں کر سکے۔ تو کیا نئی حکومت ایسا کرنا چاہیے گی؟