الوداعی اجلاس میں گلے، شکوے اور معذرت

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اسلام اباد
قومی اسمبلی کے آخری اجلاس کے دوران پریس گیلری سے ایوان میں نظر دوڑائی تو ایسا محسوس ہوا جیسےایوان میں صرف خواتین ہی موجود ہیں۔
گذشتہ پانچ سالوں کی طرح خواتین اراکینِ اسمبلی کی بڑی تعداد ایوان میں موجود تھی اور ان میں بھی زیادہ تر حزبِ اختلاف کے بینچز پر۔
لیکن ایوان میں شاید وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائدِ حزبِ اختلاف کے علاوہ بظاہر کسی اور رکن کی تقریر کو سننے میں دیگر اراکین نے زیادہ توجہ نہیں دی اور کچھ ایسا تاثر ہی ملا جیسے اراکین ایوان میں ایک دوسرے سے الوداعی ملاقات کرنے آئے ہیں۔
ایوان کے ایک حصے میں حکومتی اراکین ایک دوسرے کی نشست پر جا کر گپ شپ لگانے میں مگن تھے اور دوسری جانب اپوزیشن کی خواتین اراکین بھی الوداعی ملاقاتیں کر رہی تھیں جبکہ اس سب کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی رکن کی تقریر بھی جاری رہتی۔ قومی اسمبلی کا سٹاف اراکین میں اسمبلی مدت پوری ہونے کی تعریفی اسناد بھی پیش کر رہے تھے۔
مختلف اراکین چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں ایوان کے مختلف حصوں میں گپ شپ میں مصرو ف تھے، کہ اسی دوران صدر مملکت کی تنخواہ بڑھانے کا بِل بھی پیش ہوا۔
قائد حزب اختلاف اور شیریں مزاری نے کہا کہ آخری دن بِل پیش کرنے کی بجائے اسے آئندہ حکومت کے لیے چھوڑ دینا چاہیے، تاہم اجلاس کی گہما گہمی کے بیچ یہ بِل بھی جلدی سے منظور کر لیا گیا۔
جس کے ساتھ ہی صدر کی تنخواہ میں اضافہ ہوگیا۔
اب صدرِ پاکستان کی تنخواہ آٹھ لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہو جائے گی جو پاکستان میں کسی بھی سرکاری عہدیدار کی تنخواہ سے زیادہ ہوگی۔ اس سے پہلے صدر کی تنخواہ آخری بار 2004 میں 80 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے نہ صرف پارلیمنٹ کے سٹاف کا شکریہ ادا کیا بلکہ اسپیکر سمیت دیگر اراکین ِ اسمبلی کی بھی تعریف کی۔
لیکن انھوں نے آخری دن بھی حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے ان اراکین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جنھوں نے ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ جس پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ 'آج کے دن صِرف اچھی باتیں ہی کرنی چاہییں۔'
کچھ ہی دیر بعد مسلم لیگ ن کے عابد شیر علی شیریں مزاری کے پاس چلے گئے، تاہم شیریں مزاری نے بظاہر ان کی موجودگی کو نظر انداز کیا، جس پر اسپیکر نے رکن اسمبلی کی تقریر روکتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ 'عابد شیر علی شیریں مزاری سے بات کرنے گئے ہیں اور اگر مزاری صاحبہ ان سے بات کرلیں تو امید ہے کہ یہ تلخی بھی ختم ہو جائے گی'۔
وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ایوان سے آخری خطاب کیا، انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پانچ سالہ دور میں جمہوریت کو خطرات بھی لاحق ہوئے، لیکن اپوزیشن کے مثبت کردار کی وجہ سے جمہوریت برقرار رہی اور ان خطرات کا سامنا کیا گیا۔
انھوں نے قائدِ حزبِ اختلاف اور اسپیکر قومی اسمبلی کے کردار کی تعریف کی۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ' 2013 کے مقابلے میں آج سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت بھی بہتر ہوئی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھاہے۔' وزیراعظم نے کہا کہ 'انتخابات میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی'۔
وزیر اعظم سے پہلے قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور کہا کہ انھوں نے پوری کوشش کی کہ 'ایوان میں سیاست گالم گلوچ میں تبدیل نہ ہو، تاہم اس دوران الزامات عائد کیے جاتے رہے کہ میں نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔'
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکنِ اسمبلی رشید احمد گوڈیل نے عام انتخابات کو تین ماہ کے لیے موخر کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات دور کرنے تک انتخابات صاف شفاف نہیں ہو سکتے۔
قائد حزبِ اختلاف سید خورشید کے ساتھ کئی خواتین پارلیمنٹیرنز تصاویر کھنچواتی نظر آئیں۔ خیال رہے کہ خواتین اراکینِ اسمبلی کی جانب سے نہ صرف حاضری کا ریکارڈ بہتر رہا بلکہ قانون سازی میں بھی خواتین آگے آگے رہیں ہیں۔
اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو سرٹیفکیٹس اور شیلڈز پیش کی گئیں۔
اور یوں گلے شکوے، معذرت، معافی تلافی کرتے یہ آخری اجلاس بھی ختم ہو گیا۔











