گوجرانوالہ: یورپ جانے کے لیے نوجوان کا اپنے ہی اغوا کا ڈرامہ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے شہر گوجرانوالہ کے رہائشی 23 سالہ محمد حذیفہ چند روز قبل گھر سے غائب ہوئے تو ان کے والد کو فون پر اطلاع ملی کہ ان کے بیٹے کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
اغوا کار نے ان کی رہائی کے عوض تین لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور انتباہ کی کہ پولیس کو اس معاملے کی خبر نہ ہو ورنہ ان کے حق میں بہتر نہ ہو گا۔
حذیفہ کے والد محمد الیاس فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان دنوں سکیورٹی گارڈ کی نوکری کر رہے ہیں۔ تین لاکھ ان کے لیے ایک بڑی رقم تھی جس کا فوری طور پر بندوبست کرنا ممکن نہیں تھا۔
لہذٰا انھوں نے اغوا کار سے تاوان کی رقم پر سودے بازی کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں انھیں زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تاہم وہ نئی اور کم طے شدہ رقم دینے کے قابل بھی نہیں تھے۔ انھوں نے بالآخر پولیس سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
مزید پڑھیے
گوجرانوالہ شہر کے ماڈل ٹاؤن پولیس سٹیشن کے انچارج انصر جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد الیاس کی شکایت پر اغوا کی رپورٹ درج کرنے کے بعد ابتدائی حالات و واقعات سنتے ہی پولیس کو معاملے میں ’گڑبڑ‘ کا اندیشہ ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اغوا کار عموماً کسی کو اٹھانے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیتے ہیں کہ انھیں تاوان میں اچھی رقم مل سکتی ہے۔ وہ عموماً اتنی چھوٹی رقم تاوان میں نہیں مانگتے اور پھر آسانی سے اس میں کمی پر آمادہ نہیں ہوتے۔
انسپکٹر انصر کے مطابق ’اغوا کار کی ابتدائی مانگ تین لاکھ کی تھی مگر آخر میں وہ دس ہزار تک آ گیا تھا۔‘ ایسا پیشہ ور اغوا کار نہیں کرتے۔ پولیس کا شک مزید پختہ ہونا شروع ہوا۔
پولیس کے کہنے پر محمد الیاس نے اغوا کار سے سودے بازی جاری رکھی جبکہ دوسری جانب پولیس فون نمبر کی مدد سے اغوا کار کا سراغ لگانے میں لگ گئی۔
پولیس انسپکٹر کے مطابق ’فون کال کا پیچھا کرتے ہوئے اغوا کار کا سراغ لاہور شہر میں داتا دربار کے علاقے میں ملا۔ تین روز تک ہم نے اس کا مشاہدہ کیا۔ اس نے جگہ نہیں بدلی۔‘
اب سوال یہ تھا کہ نشاندہی کے اس مقام پر کارروائی کی جائے؟ اس سے مغوی کو ممکنہ طور پر نقصان بھی ہو سکتا تھا؟
تاہم مبینہ اغوا کے تقریباً پانچ روز بعد پولیس نے لاہور کے داتا دربار کے علاقے میں نشاندہی کیے گئے مقام پر مغوی کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا۔
وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہاں اغوا کار تو کوئی نہیں صرف مغوی خود ہی موجود تھا۔ تفتیش پر پتہ چلا کہ محمد حذیفہ نے خود اپنے اغوا کا ڈرامہ رچایا تھا، پولیس نے انہیں موقع سے گرفتار کر لیا۔
’اس نے خود اغوا کار بن کر اپنے والد کے ساتھ فون پر رابطہ قائم کیا اور تاوان کا مطالبہ کیا۔ اس کام کے لیے اس نے اپنے موبائل فون میں دوسرا سِم کارڈ اور آواز بدلنے والا سافٹ ویئر استعمال کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھیں پیسے کیوں چاہیے تھے؟
تفتیش کے دوران حذیفہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ ملک سے باہر جانا چاہتے تھے جس کے لیے کچھ عرصہ قبل انھوں نے اپنے والد سے پیسوں کا مطالبہ کیا تھا جو انہیں نہیں مل پائے تھے۔
پولیس کے مطابق حذیفہ نے بتایا کہ وہ جانتے تھے کہ ان کے والد کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں مگر ’پیسوں کا بندوبست کرنے کا انہیں اس کے علاوہ کوئی طریقہ نظر نہیں آیا۔‘
تاہم انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ تھے جس پر انھوں نے اپنے والد سے بھی معافی مانگ لی تھی۔ انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا ’جہاں انھوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عمل پر معافی مانگی۔‘
مدعی یعنی ان کے والد محمد الیاس کی جانب سے بھی انہیں معاف کرنے کے بعد پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد حذیفہ نے بتایا کہ وہ بیرونِ ملک جا کر کام کرنا چاہتے تھے۔
’میرے پاس ابھی تک وہ رسیدیں پڑی ہیں جہاں میں نے نوکریوں کے لیے درخواستیں دیں ہیں مگر کہیں سے مجھے کبھی کوئی جواب نہیں آیا۔‘
محمد حذحفہ نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ ڈرائیونگ لائسنس بھی رکھتے ہیں اور والی بال اچھا کھیل لیتے ہیں۔
پولیس کا کہنا تھا کہ محمد حذیفہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ یونان یعنی یورپ کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے تھے جس کے لیے ان کا خیال تھا کہ ان کے والد پیسے کا بندوبست کر دیں گے۔ وہاں انہیں کمائی کا موقع مل جائے گا تو وہ واپس لوٹا دیں گے۔
تاہم حذیفہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تاحال ان کا اس حوالے سے کسی ’ایجنٹ‘ یا انسانی سمگلر سے رابطہ نہیں ہوا تھا۔ پیسے ہاتھ میں آنے کے بعد ہی وہ رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
یاد رہے کہ وہ جس جانب اشارہ کر رہے تھے یہ وہ ایجنٹ ہیں جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہوتے ہیں اور غیر قانونی طریقوں سے لوگوں کو یورپ لے کر جاتے ہیں۔
ماضی میں کئی افراد ایسے سفر کے دوران اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ کئی افراد اب بھی مہاجروں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔









