نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا گیا

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر ان ریفرنسز میں 60 سے زائد پیشیوں پر عدالت میں پیش ہو چکے ہیں

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف زیر سماعت ایون فیلڈز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے 18 مئی کو طلب کیا ہے۔

ان کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ342 کے تحت ریکارڈ کیا جائے گا جس میں سابق وزیراعظم اور ان کے بچوں کو ان کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات میں صفائی کا موقع فراہم کرنا ہے کہ اگر وہ بیرون ملک جائیداد اور کاروبار کے بارے میں کوئی شواہد پیش کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔

میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف دبئی میں گلف سٹیل ملز کے قیام، لندن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے ریفرنس شامل ہیں جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد محمد صفدر ایون فیلڈ پراپرٹیز میں ملزمان ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

احتساب عدالت پہلے ہی عدم پیشی پر حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

بدھ کو سماعت کے موقع پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کے پراسیکیوٹر مظفر عباسی اور وکیل صفائی امجد پرویز کو ملزمان کے لیے تیار کیا گیا سوال نامہ پیش کیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ سوال نامہ 127 سوالات پر مشتمل ہے جس میں نواز شریف کے ان ریفرنسز میں بطور ملزم نامزد ہونے کے ساتھ ساتھ بے نامی جائیداد کے مالک ہونے اور عوامی عہدے کے غلط استعمال سے متعلق سوالات بھی شامل ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر ان ریفرنسز میں 60 سے زیادہ مرتبہ عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔

احتساب عدالت میں ملزمان کے خلاف لندن فلیٹس سے متعلق عدالتی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔

سپریم کورٹ احتساب عدالت ملزمان کے خلاف دائر ریفرنس پر عدالتی کارروائی مکمل کرنے کے لیے پہلے ہی ان کی مدت میں تین بار توسیع دے چکی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے احتساب عدالت کو نو جون تک اپنی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

مریم نواز

،تصویر کا ذریعہEPA

اپنے عہدے سے نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کا دعویٰ ہے کہ اُن کے خلاف ریفرنس دباؤ کے تحت دائر کیے گئے ہیں اور ان کے بقول ان ریفرنسز میں استغاثہ ان کے خلاف شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

دوسری طرف قانون و انصاف کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو 22 مئی کو طلب کر لیا ہے۔

چیئرمین نیب کی طلبی ان کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان پر کی گئی ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ نیب نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی طرف سے مبینہ طور پر تقریباً پانچ ارب ڈالر بھارت بھجوانے سے متعلق ایک اخباری خبر پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت حکمراں جماعت نے چیئرمین نیب کے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہہ چکے ہیں کہ اُنھیں شرمندگی ہے کہ اُنھوں نے قائد حزب اختلاف سے مل کر متفقہ طور پر جاوید اقبال کا نام بطور نیب چیئرمین بھجوایا تھا۔