شاہد خاقان عباسی کی بطور ’سی ای او ایئربلیو‘ عدالت میں طلبی

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن کے حکام کی فراہم کردہ معلومات پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نجی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو افسر کی حیثیت سے طلب کر لیا ہے تاہم ائیر بلیو کے مطابق وہ یہ عہدہ نہیں رکھتے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو وزیراعظم سمیت دیگر نجی ایئر لائنز کے مالکان کو طلب کرنے کا حکم ہوائی جہاز اڑانے والے پائلٹس کی جعلی ڈگریوں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیا ہے۔
عدالت نے ان افراد کو 12 مئی کو طلب کیا ہے۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر ناصر علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ دستیاب معلومات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایئر بلیو کے چیف ایگزیکٹیو ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو مفادات کا ٹکراؤ ہے تاہم اس معاملے کو بعد میں دیکھیں گے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر شاہد خاقان عباسی ’وزیر اعظم کے طور پر نہیں بلکہ ایئرلائن کے سربراہ کے طور پیش ہوں گے۔‘
بی بی سی نے جب اس سلسلے میں ایئر بلیو سے رابطہ کیا تو نجی ایئر لائن کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر راحیل احمد نے بتایا کہ شاہد خاقان عباسی کے پاس ماضی میں ایئر بلیو کے سی او او کا عہدہ تھا تاہم انھوں نے 'وفاقی وزیر بنتے ہی ایئر لائن کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے تو وہ ایئر لائن کے بورڈ کی رکنیت سے بھی مستعفی ہو گئے تھے۔
اس وقت ایئر بلیو کی ویب سائٹ پر طارق چوہدری کو اس ایئرلائن کا چیف ایگزیکٹو افسر ظاہر کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت ملک میں پی آئی اے کے علاوہ تین نجی ایئر لائنز کام کر رہی ہیں جن میں ایئر بلیو، شاہیں ایئر اور سرین ایئر لائن شامل ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پی آئی اے کے دو ہزار کے قریب اہلکاروں کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال ہونا باقی ہے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قومی ایئر لائن میں اس وقت 24 ایسے پائلٹس ہیں جن کی ڈگریاں جعلی ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ پی آئی اے کے کچھ اہلکاروں کی ڈگریوں کی تصدیق سول ایوی ایشن سے بھی کروائی گئی ہے۔
بینچ کے سربراہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا دوسری ایئر لائنز سے بھی ڈگریوں سے متعلق کوئی ڈیٹا فراہم کیا گیا؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک ان ایئر لائنز کی جانب سے معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
چیف جسٹس نے کمرۂ عدالت میں موجود سینیئر وکیل حامد خان سے استفسار کیا کہ کیا وکلا کی جعلی ڈگریوں کی بھی تصدیق نہیں ہونی چاہیے جس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی بھی چھان بین ضروری ہے۔
میاں ثاقب نثار نے پاکستان کی تمام بار کونسلز کو ایسے وکلا سے متعلق ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جن کے بارے میں معلوم ہو کہ ان کے پاس وکالت کی جعلی ڈگریاں ہیں۔
سپریم کورٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے بھی ڈگریوں کی تصدیق کے بارے میں تعاون کرنے کا حکم دیا ہے۔











