آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشلستان: یہ گھریلو عورت کیا ہوتی ہے؟
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سوشلستان میں لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ن لیگ کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ کس کی بات سمجھیں اور کس بات کو رد کریں۔ کیا عابد شیر علی اور رانا ثنا اللہ کے ورژن کو ن لیگ کا ورژن سمجھیں یا پارٹی کے صدر شہباز شریف کی معافی کو جس کے بعد بھی سلسلہ تھما نہیں۔ اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے بعض رہنماؤں کا خواتین کے بارے میں بات کرنے کا ٹریک ریکارڈ تہذیب کے دائرے سے اتنا نکل چکا ہے کہ اب ڈر رہتا ہے کہ اس سے مزید برا کیا کہا جا سکتا ہے۔
یہی اس ہفتے ہمارے سوشلستان کا موضوع ہے۔
سیاستدانوں کے عورت مخالف بیانات
پاکستان مسلم لیگ کے دو رہنماؤں عابد شیر علی اور رانا ثنا اللہ کی جانب سے خواتین کے خلاف نامناسب اور نازیبا زبان استعمال کرنے پر سوشل میڈیا شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔
اس ردِ عمل میں سب سے زیادہ نمایاں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور پارٹی کا ردِ عمل ہے جو اس پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان 'ہماری خواتین کارکنان کیخلاف عابد شیر علی اور رانا ثنا اللہ کے گھٹیا زبانی حملے قابل گرفت اور قابل مذمت ہیں۔ گذشتہ 30 برسوں کے دوران ان لوگوں نے اسلامی و ثقافتی روایات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خواتین کے بارے میں توہین آمیز طرزعمل اپنایا۔ رانا ثنا اللہ اور اس قبیل کے دوسرے کردار شریفوں کی ذہنیت اور انکی نظر میں خواتین کے مقام و حرمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ذرا سا کریدنے پر ہی ان کے گھناؤنے چہرے واضح ہوجاتے ہیں۔'
اس شدید بیان کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی خواتین اور مرد رہنماؤں نے اس طرزِ عمل پر شدید تنقید کی مگر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف جن کے ماتحت رانا ثنا اللہ کام کرتے ہیں نے اپنی ٹویٹ میں اس پر معذرت کی اور لکھا 'پی ایم ایل ن خواتین کے سیاست میں فعال کردار کو تسلیم کرتی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ایسا کوئی بھی بیان جس سے ان کی تضحیک ہو بہت زیادہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ہمیں سیاسی طرزِ عمل میں تہذیب اور عزت کے عوامل برقرار رکھنے چاہیں۔ میں چند سیاسی رہنماؤں کی جانب سے عورت مخالف بیانات پر معذرت خوا ہوں۔'
اس شدید بیان کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی خواتین اور مرد رہنماؤں نے اس طرزِ عمل پر شدید تنقید کی۔
جیو نیوز کی اینکر رابعہ انعم نے ٹویٹ کی کہ 'میں عابد شیر علی اور رانا ثنا اللہ جیسے عورتوں مخالف کرداروں کے انٹرویو کرنے کا بائیکاٹ کروں گی جب تک وہ پبلک میں معذرت نہیں کرتے۔ بہت ہو گیا۔ تمام خواتین اینکرز اور صحافیوں کو ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ عورت کو عزت دو۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماروی سرمد نے لکھا 'یہ گھریلو عورت کیا ہوتی ہے؟ میں رانا ثنا اللہ اور ان کی جماعت سے پوچھتی ہوں۔ کیا آپ مریم نواز شریف اور دوسری پی ایم ایل ن کی خواتین کو گھریلوں عورتیں سمجھتے ہیں؟ اگر ہاں تو آپ میرے تصور سے زیادہ خراب ہیں۔ اگر نہیں تو آپ اپنا موقف خود ہی رد کر چکے ہیں۔'
مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے ٹویٹ کی کہ 'کسی بھی سیاسی رہنما کو اپنی سیاسی مشہوری کی خاطر یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ خواتین کے بارے میں غیر اخلاقی الفاظ استعمال کرے۔ اسلام نے خواتین کو عزت کا مقام دیا۔ سیاست اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر کی جائے۔ امید ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے رہنما اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے۔'
سیدہ انعم شاہ نے ٹویٹ کی کہ 'ایک عورت ہونے کی حیثیت سے میری ہر ایک شخص سے درخواست ہے کہ چاہے وہ پی ٹی آئی سے ہو یا مسلم لیگ ن سے۔ پلیز عورتوں کی بے عزتی کرنا بند کر دیں۔ چاہے ہو مسلمان ہو یا غیر مسلم عورت ہو۔'
اس کے علاوہ یہ بات بھی کی جاتی رہی کہ خواتین چاہے جس سیاسی جماعت سے اُن کا تعلق ہو ان کی بے عزتی یا تضحیک قابلِ قبول نہیں۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کہ رہنماؤں سے پارٹی کے کراچی سے رکن عمران اسماعیل اور ابرارالحق کی ٹویٹس کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جو بارہا پی ایم ایل ن کے رہنماؤں اور مریم نواز کے بارے میں انتہائی نامناسب زبان استعمال کر چکے ہیں۔